خالدصدیقی، مصطفیٰ کمال یا۔۔۔۔۔MQM کا اگلا چیئرمین کون؟

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اندر اندرونی اختلافات اور قیادت کے حوالے سے جاری بحث نے ایک بار پھر جماعت کی مستقبل کی قیادت کو موضوعِ گفتگو بنا دیا ہے۔ چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال کے درمیان اختیارات اور تنظیمی امور پر اختلافات کی اطلاعات کے بعد یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ اگر قیادت میں تبدیلی آتی ہے تو چیئرمین شپ کی دوڑ میں اور کون سے رہنما نمایاں ہو سکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت ایم کیو ایم پاکستان کے اندر دو بڑے دھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک روایتی بہادر آباد قیادت کے ساتھ کھڑا ہے جس کی نمائندگی خالد مقبول صدیقی کرتے ہیں، جبکہ دوسرا سابق پاک سرزمین پارٹی سے آنے والے رہنماؤں پر مشتمل گروپ ہے جس کی قیادت مصطفیٰ کمال کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں چیئرمین شپ کے ممکنہ امیدواروں پر بھی بحث جاری ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا نام چیئرمین شپ کے مضبوط امیدواروں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جس طرح وہ ماضی میں پارٹی کے اندر ایک اہم اور بااثر کردار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، اسی طرح اگر موجودہ اختلافات شدت اختیار کرتے ہیں تو وہ ایک ایسے متفقہ امیدوار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں جسے مختلف دھڑے قبول کر لیں۔ بعض حلقے انہیں اسٹیبلشمنٹ اور پارٹی قیادت کے درمیان رابطے کے مؤثر کردار کے باعث بھی اہم سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب فاروق ستارکا نام بھی سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر فاروق ستار اس وقت کھل کر کسی دھڑے کی حمایت کرتے نظر نہیں آتے، تاہم وہ جماعت کے سینئر ترین اور تجربہ کار رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق اگر جماعت کو کسی مصالحتی اور متفقہ شخصیت کی ضرورت پڑی تو فاروق ستار ایک قابلِ قبول آپشن ثابت ہو سکتے ہیں۔

پارٹی کے اندر موجود کچھ حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں کوئی نسبتاً کم متنازع اور تنظیمی طور پر قابلِ قبول رہنما بھی سامنے لایا جا سکتا ہے، خصوصاً اگر موجودہ دھڑوں کے درمیان اختلافات مزید بڑھ جائیں۔ تاہم فی الحال سیاسی مبصرین کی توجہ بنیادی طور پر خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، کامران ٹیسوری اور فاروق ستار کے گرد ہی مرکوز ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما حسان صابر اور دیگر پارٹی عہدیدار مسلسل اس تاثر کو مسترد کر رہے ہیں کہ جماعت کسی بڑے بحران یا تقسیم کی طرف جا رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافِ رائے ایک معمول کی بات ہے اور پارٹی متحد ہے۔ تاہم سیاسی حلقے اس صورتحال کو آئندہ جماعتی انتخابات اور قیادت کے مستقبل کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔

موجودہ حالات میں اگر چیئرمین شپ کی دوڑ کا جائزہ لیا جائے تو مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی بدستور نمایاں امیدوار ہیں، لیکن کامران خان ٹیسوری اور فاروق ستار ایسے نام ہیں جو کسی بھی ممکنہ تنظیمی تبدیلی یا مصالحتی فارمولے کی صورت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی اندرونی سیاست آنے والے مہینوں میں سندھ کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Back to top button