ماه رنگ بلوچ کو عمر قید بلوچ سیاست پر کیا اثر ڈالے گی؟

 

 

 

بلوچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی قوم پرست رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید سنانے کے عدالتی فیصلے کو بلوچستان کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے بلوچستان کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی صبغت اللہ کو گوادر میں ایک سیکیورٹی اہلکار کے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد بلوچستان کی سیاسی، سماجی اور قانونی فضا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت کا یہ فیصلہ محض ایک فوجداری مقدمے کا فیصلہ نہیں بلکہ بلوچستان میں ریاست، قوم پرست سیاست، انسانی حقوق کی تحریکوں اور سیکیورٹی پالیسیوں کے درمیان جاری پیچیدہ تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

 

عدالتی ذرائع کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت نے گوادر میں پیش آنے والے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنائی۔ مقدمے کی سماعت آن لائن طریقہ کار کے تحت کی گئی جبکہ دونوں ملزمان نے ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ سے عدالتی کارروائی میں شرکت کی۔ استغاثہ کے مطابق گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں سیکیورٹی اہلکار شبیر زخمی ہوئے تھے جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ پراسیکیوشن کا مؤقف تھا کہ واقعے کی ذمہ داری احتجاج کی قیادت پر عائد ہوتی ہے، جبکہ دفاعی وکلا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد ناکافی اور متنازع نوعیت کے ہیں۔

 

عدالت نے استغاثہ اور دفاع کے دلائل، گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ پر موجود شواہد کا جائزہ لینے کے بعد دونوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنانے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بلوچستان میں انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے معاملات پر آواز بلند کرنے والی نمایاں ترین شخصیات میں شمار کی جاتی ہیں۔ ان کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں ان کی شناخت ایک سماجی اور سیاسی کارکن کے طور پر زیادہ نمایاں ہوئی۔

 

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے والد عبدالغفار لانگو بلوچ قوم پرست حلقوں سے وابستہ تھے۔ ان کی ایجنسیوں کے ہاتھوں مبینہ گمشدگی اور بعد ازاں ہلاکت نے ماہ رنگ بلوچ کی زندگی اور سیاسی شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہی واقعہ بعد میں ان کی انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں کا بنیادی محرک بنا۔ انہوں نے ابتدا میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے مقدمات کو اجاگر کرنے کی مہم میں حصہ لیا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی تحریکوں کا ایک نمایاں چہرہ بن گئیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد انہوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، لانگ مارچز اور عوامی اجتماعات کی قیادت کی جن کا بنیادی مقصد لاپتہ افراد کے مسئلے اور انسانی حقوق سے متعلق شکایات کو اجاگر کرنا تھا۔

 

گزشتہ چند برسوں کے دوران ان کی سرگرمیوں کو قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں نمایاں کوریج حاصل ہوئی۔ اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچز کے باعث وہ ملکی سیاسی مباحث کا حصہ بنیں، جبکہ متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور غیر ملکی میڈیا اداروں نے بھی ان کی سرگرمیوں اور بلوچستان کے مسائل پر توجہ دی۔

 

ان کے حامی انہیں انسانی حقوق کی ایک توانا آواز اور پرامن سیاسی کارکن قرار دیتے ہیں جو بلوچ عوام کے مسائل کو آئینی اور جمہوری ذرائع سے اجاگر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ دوسری جانب ریاستی اور حکومتی حلقے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ بعض احتجاجی سرگرمیوں کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کے خدشات پیدا ہوتے رہے ہیں۔

 

عدالتی فیصلے کے بعد مختلف سیاسی، قوم پرست اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان کی بعض قوم پرست جماعتیں ماضی میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی حمایت کرتی رہی ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کے حوالے سے مختلف اوقات میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

حکومت غیر قانونی مقیم افغانوں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ اگر اپیل مسترد ہو جائے تو معاملہ سپریم کورٹ تک بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے قانونی اعتبار سے اس مقدمے کو ابھی مکمل طور پر اختتام پذیر نہیں سمجھا جا رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب ریاستی ادارے قانون کی عملداری، امن و امان اور سیکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کو مقدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقے اس معاملے کو بلوچستان میں سیاسی آزادیوں، شہری حقوق اور احتجاج کے حق کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ماضی میں بلوچستان میں لاپتہ افراد اور سیاسی کارکنوں کے معاملات پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں، جس کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مقدمے اور عدالتی فیصلے پر نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی بحث جاری رہے گی۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ دنوں میں عدالتی اپیلیں، ممکنہ سیاسی ردعمل اور احتجاجی سرگرمیاں بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جس کے باعث اس مقدمے کو بلوچستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

Back to top button