حکومت غیر قانونی مقیم افغانوں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟

حکومت نے خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف وفاقی اور صوبائی سطح پر بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکام نے افغان کیمپوں میں تقریباً 33 ہزار غیر رجسٹرڈ افراد کی موجودگی کی نشاندہی کے بعد ان کی واپسی اور کیمپوں کی بندش کا عمل شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو مہاجرین کی واپسی کا جامع پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجلاس میں ملک بھر میں موجود افغان باشندوں کے اعداد و شمار، ان کی قانونی حیثیت اور واپسی کے عمل کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ افغان کیمپوں میں موجود تمام افراد کی واپسی کو یقینی بنایا جائے اور باقی ماندہ کیمپوں کو فوری طور پر خالی کرا کر بند کیا جائے۔جمرود کے علاقے میں مقامی انتظامیہ نے بھی افغان مہاجرین کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد غیر قانونی افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے نہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم افراد بلکہ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی اور ضبطی کے لیے بھی ابتدائی ہوم ورک مکمل کیا جا رہا ہے۔مزید یہ کہ افغان باشندوں کو رہائش یا دیگر سہولتیں فراہم کرنے والوں کی نشاندہی بھی جاری ہے، جن کے خلاف قانونی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں مشتبہ شناختی کارڈز اور ویزا اسٹیس کیسز پر بھی غور کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ضلعی سطح پر قائم کمیٹیاں ایسے تمام کیسز کی فوری جانچ کریں گی جبکہ نادرا کو مکمل معاونت فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ذرائع کے بقول ایک لاکھ سے زائد مشتبہ افراد کی چھان بین بھی اس عمل کا حصہ ہوگی تاکہ غیر قانونی رہائش کے تمام کیسز کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مختلف صوبوں میں ہزاروں افغان باشندے موجود ہیں، جن میں خیبر پختونخوا سرفہرست ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مرحلہ وار اور مربوط انداز میں جاری رکھی جائے گی۔مبصرین کے بقول وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اس مشترکہ اقدام کے بعد پاکستان میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی موجودگی کے حوالے سے پالیسی مزید سخت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ آئندہ دنوں میں اس مہم کے دائرہ کار میں مزید وسعت اور تیزی متوقع ہے۔

Back to top button