پاکستان نے دو دشمن ممالک کو ایک میز پر کیسے بٹھایا؟

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت اور پُرسکون سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں ہونے والے ایران اور امریکا کے مذاکرات نے عالمی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ برسوں کی کشیدگی، دھمکیوں، پابندیوں اور پراکسی تنازعات کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک ایک ایسے مذاکراتی عمل پر متفق نظر آئے ہیں جس کے پیچھے پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارتی کاوشیں کارفرما ہیں۔
یہ صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ عالمی طاقتوں اور علاقائی کھلاڑیوں کے درمیان اعتماد سازی کی ایک نئی کوشش ہے جس نے مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کو مزید روشن کر دیا ہے۔ پاکستانی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عمل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں اور مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اہم سفارتی رابطے استوار کیے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ اعتراف غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششیں نہ ہوتیں تو شاید یہ مذاکرات ممکن ہی نہ ہوتے۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب صرف علاقائی سلامتی کا حصہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سفارتکاری میں بھی ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ایران اور امریکا نے آئندہ 60 روز میں ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ منظور کر لیا ہے۔ مذاکراتی عمل کی نگرانی کے لیے ایک ہائی لیول کمیٹی قائم کی جائے گی جبکہ جوہری پروگرام، پابندیوں، علاقائی تنازعات اور اعتماد سازی سے متعلق خصوصی ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جائیں گے۔سب سے اہم پیش رفت آبنائے ہرمز کے حوالے سے سامنے آئی جہاں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے براہ راست رابطہ لائن قائم کرنے پر اتفاق ہوا۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں، اس لیے اس معاملے پر پیش رفت کو عالمی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے نفاذ کے لیے بھی ایک مشترکہ "ڈی کنفلیکشن سیل” قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں لبنان اور ثالث ممالک شامل ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنانا اور خطے میں کسی نئی محاذ آرائی کو روکنا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، بعض پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی جزوی بحالی جیسے اہم معاملات پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو ایران کی معیشت کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے جبکہ عالمی تیل منڈیوں میں بھی استحکام پیدا ہوگا۔
اگرچہ مذاکرات کے دوران بعض مواقع پر اختلافات بھی سامنے آئے اور ایرانی وفد نے بعض امریکی بیانات پر احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا، تاہم دونوں فریقوں نے واضح کیا کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ جاری رہیں گے۔ یہی اس عمل کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ رابطے کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے لیے یہ کامیابی محض ایک سفارتی اعزاز نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے کردار کا اعتراف بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا مختلف تنازعات اور جنگوں سے دوچار ہے، پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوایا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول اگر آئندہ 60 دنوں میں مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور اقتصادی بحالی کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ برگن اسٹاک سے شروع ہونے والا یہ سفارتی سفر شاید آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کے اہم ترین موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے۔
