امریکا کے ساتھ رابطوں کا نیا فریم ورک طے،ایرانی وفد مطمئن

ایران، امریکا، پاکستان اور قطر کے درمیان ہونے والے چار فریقی مذاکرات کے اختتام پر ایرانی وفد وطن واپس روانہ ہو گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکراتی دور کے مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد نے وطن واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے، جبکہ مذاکرات کے دوران متعدد اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایک امریکی سفارتکار نے مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے پر حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے اور تمام فریقین نے اس اہم بحری گزرگاہ میں تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کی ضرورت پر اتفاق کیا۔امریکی سفارتکار کے مطابق بات چیت کا ماحول مثبت رہا اور فریقین نے لبنان میں جنگ بندی کو مزید مؤثر بنانے اور کشیدگی میں کمی کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران لبنان میں استحکام برقرار رکھنے اور ممکنہ تنازعات سے بچنے کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔سفارتکار کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا اور محفوظ دیکھنا چاہتا ہے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق سیاسی قیادت اور تکنیکی ٹیموں کے درمیان مستقبل کے رابطوں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ چاروں فریق آج کی پیش رفت پر مجموعی طور پر مطمئن دکھائی دیے۔
