کیا واقعی ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ختم ہونے والی ہیں؟

ایرانی قومی تیل کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر حمید بوارد نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات کے دوران ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق معاملات پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
مذاکراتی عمل میں شریک ایرانی وفد کے رکن حمید بوارد کے مطابق بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات خلیج فارس کے راستے دوبارہ بحال ہونے جا رہی ہیں، جس سے ملکی توانائی شعبے کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں متعدد ایرانی تیل بردار جہاز پہلے سے مقررہ محدود سمندری حدود عبور کر چکے ہیں اور اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہیں۔
حمید بوارد کا کہنا تھا کہ ایران اپنی ماہانہ تیل برآمدات کا تقریباً نصف حصہ بیرونِ ملک روانہ کر چکا ہے، جبکہ مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد کے بعد برآمدات اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری، توانائی کے شعبے میں تعاون اور تیل سے متعلق پابندیوں کے خاتمے کے امور کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا گیا۔ اس سلسلے میں امریکی وفد کو بعض تجاویز اور ترامیم بھی پیش کی گئی ہیں جن کے مثبت نتائج کے حوالے سے ایران پُرامید ہے۔ایرانی حکام کے مطابق پابندیوں میں نرمی اور برآمدات کی بحالی نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے گی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
