پاکستانی ڈانسنگ گرل آخر بھارت کیسے پہنچی؟

دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہونے والی وادیٔ سندھ تہذیب نے انسانیت کو بے شمار راز دیے، لیکن ان رازوں میں سب سے پراسرار نام شاید "ڈانسنگ گرل” کا ہے۔ صرف دس سینٹی میٹر قد کی کانسی کی یہ مورتی آج بھی مؤرخین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور فنونِ لطیفہ کے ماہرین کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
محققین کے مطابق یہ مورتی 1926 میں موہن جو دڑو سے دریافت ہوئی، جو آج پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے۔ ایک نو عمر لڑکی کی شکل میں بنائی گئی اس کانسی کی مورتی نے اپنے منفرد انداز، اعتماد سے بھرپور جسمانی زبان اور فنکارانہ مہارت کے باعث دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ لیکن اس مورتی کی شہرت جتنی دلچسپ ہے، اس کا سفر بھی اتنا ہی حیران کن ہے۔ مبصرین کے مطابق تقسیمِ ہند سے قبل برطانوی دور میں موہن جو دڑو اور ہڑپہ سے دریافت ہونے والے ہزاروں نوادرات کو تحقیق اور نمائش کے لیے دہلی منتقل کیا گیا تھا۔ 1947 میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو موہن جو دڑو اور ہڑپہ پاکستان کا حصہ بن گئے، مگر ان سے برآمد ہونے والے بہت سے آثار اس وقت دہلی میں موجود تھے۔
بعد ازاں پاکستان نے ان نوادرات کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ طویل مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آثارِ قدیمہ کی تقسیم کا اصولی معاہدہ ہوا۔ پاکستان کی خواہش تھی کہ اسے موہن جو دڑو کی دو مشہور ترین یادگاریں، "پریسٹ کنگ” اور "ڈانسنگ گرل” دونوں واپس ملیں۔تاہم بھارت نے صرف ایک اہم نوادر پاکستان کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ آخرکار پاکستان نے "پریسٹ کنگ” کا انتخاب کیا جبکہ "ڈانسنگ گرل” بھارت کے پاس رہ گئی۔ اسی فیصلے کے نتیجے میں آج پریسٹ کنگ پاکستان میں موجود ہے جبکہ ڈانسنگ گرل نئی دہلی کے نیشنل میوزیم کی زینت بنی ہوئی ہے۔
اس فیصلے کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق پاکستانی حکام نے اس خدشے کے پیشِ نظر پریسٹ کنگ کو ترجیح دی کہ عریاں ڈانسنگ گرل مستقبل میں مذہبی یا سماجی تنازع کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم اس دعوے کے حتمی شواہد موجود نہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈانسنگ گرل کی شناخت خود بھی ایک معمہ ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں اسے "ڈانسنگ گرل” کہا جاتا ہے، لیکن کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں کہ وہ واقعی رقاصہ تھی۔ بعض ماہرین اسے کسی معزز خاندان کی نوجوان لڑکی سمجھتے ہیں، بعض اسے مذہبی شخصیت قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ محققین کے نزدیک یہ محض فنکار کا تخلیقی شاہکار ہے۔آج تک کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس لڑکی کا اصل نام کیا تھا، وہ کس طبقے سے تعلق رکھتی تھی یا اس مورتی کا اصل مقصد کیا تھا۔
واضح رہے کہ اس مجسمے کے گرد حالیہ تنازع اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب بھارت کی ایک نصابی کتاب میں اس کے عریاں دھڑ کو سیاہی سے ڈھانپ دیا گیا۔ آرٹ اور تاریخ کے ماہرین کی شدید تنقید کے بعد تصویر کو دوبارہ اصل حالت میں بحال کرنا پڑا۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا کہ کیا ہم اپنی قدیم تہذیبوں کو ان کے اصل تاریخی تناظر میں قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟ محققین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ڈانسنگ گرل صرف ایک مجسمہ نہیں بلکہ وادیٔ سندھ تہذیب کی فنی عظمت، تکنیکی مہارت اور ثقافتی پیچیدگی کی علامت ہے۔ وہ پاکستان میں دریافت ہوئی، بھارت میں محفوظ ہے اور پوری انسانیت کے مشترکہ ورثے کا حصہ بن چکی ہے۔ شاید اسی لیے ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود ڈانسنگ گرل آج بھی خاموشی سے کھڑی ہے، مگر اس کے گرد سوالات کا رقص اب بھی جاری ہے۔
