کپتان کے وسیم اکرم پلس سہیل آفریدی یوتھیوں کے نشانے پر کیوں؟

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے 2170 ارب روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ پیش کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ پی ٹی آئی کی بدتمیز یوتھیا بریگیڈ اور کلٹ پیروکاروں کی سخت تنقید کی زد میں ہیں۔کیونکہ بجٹ پیش کرنے سے قبل حکومت پر دباؤ تھا کہ یا تو بجٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کیا جائے یا پھر عبوری اور محدود نوعیت کا مالی منصوبہ پیش کیا جائے۔ تاہم آئینی اور قانونی ماہرین نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 128 کے تحت تین ماہ کا محدود بجٹ صرف نگران حکومت کے لیے مخصوص ہوتا ہے، جس کے باعث مکمل مالی سال کا بجٹ پیش کرنا ناگزیر ہو گیا۔ جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا حکومت پارٹی کی سخت مخالفت کے باوجود سالانہ بجٹ پیش کر دیا۔ تاہم بجٹ کی منظوری کے بعد پی ٹی آئی کے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ناراض کارکنان کی جانب سے وزیر اعلیٰ پر شدید تنقید شروع ہو گئی۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ سہیل آفریدی نے سیاسی طور پر ایک اہم موقع ضائع کیا، جبکہ بعض ناقد پی ٹی آئی کارکنان شہیل آفریدی کو غدار قرار دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم حکومتی ذرائع ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے تمام فیصلے کسی سیاسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ آئینی تقاضوں اور انتظامی ضرورت کے تحت کیے گئے ہیں،اس لئے اس حوالے سے پی ٹی آئی کارکنان کی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور حکام پر تنقید بلاجواز ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس مکمل سالانہ بجٹ پیش کرنے کے علاوہ کوئی عملی راستہ نہیں تھا۔ ترقیاتی منصوبے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور صوبائی اخراجات عبوری بجٹ میں ممکن نہیں تھے۔ اسی پس منظر میں حکومت نے 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا، جس پر بھی مختلف سیاسی حلقوں نے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے بجٹ کے اعداد و شمار میں وفاق سے ملنے والے تقریباً 1300 ارب روپے کے حصے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس پر یہ بحث جاری ہے کہ اگر وفاقی تعاون میں تاخیر یا سیاسی اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو صوبائی مالی توازن کیسے برقرار رہے گا۔ اسی وجہ سے بعض تجزیہ کار اسے “وفاق اور صوبے کے درمیان ممکنہ مالی دباؤ” سے بھی تعبیر کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ خیبر پختونخوا حکومت نے آئینی طور پر اپنا بجٹ پیش کر دیا ہے، لیکن سیاسی طور پر یہ عمل ایک نئے بحران کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا دباؤ، اندرونی اختلافات اور وفاقی مالی انحصار نے اس بجٹ کو محض ایک مالی دستاویز کے بجائے ایک مکمل سیاسی معرکہ بنا دیا ہے۔
