ایران۔امریکہ جنگ: 7 ہزار ہلاک، امریکی معیشت کو بڑا جھٹکا

ایران اور امریکہ کے درمیان ساڑھے تین ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بظاہر ختم ہو گئی ہے لیکن اس نے 7 ہزار سے زائد انسانی جانیں لینے کے ساتھ ساتھ امریکی معیشت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے پر اس جنگ کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
بین الاقوامی اقتصادی اداروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ جدید تاریخ کی مہنگی ترین جنگوں میں شامل ہو چکی ہے جس نے نہ صرف ہزاروں انسانی جانیں نگل لیں بلکہ کھربوں ڈالرز کے معاشی نقصانات بھی چھوڑے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس جنگ کے براہ راست فوجی اخراجات، توانائی کی قیمتوں میں اضافے، عالمی تجارت میں رکاوٹوں، سرمایہ کاری کے انخلا اور تعمیر نو کی لاگت کو یکجا کیا جائے تو مجموعی مالی نقصان کئی ٹریلین ڈالرز تک پہنچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اس جنگ کو اکیسویں صدی کے سب سے مہنگے علاقائی تنازعات میں شمار کر رہے ہیں۔
ایران اور امریکہ جنگ کے انسانی نقصانات بھی غیر معمولی رہے۔ مجموعی طور پر سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے 3375 سے زائد افراد مارے گئے جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ لبنان میں تقریباً 3700 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ اسرائیل میں 26 افراد کی ہلاکت رپورٹ کی گئی۔ امریکی فوج کے 13 اہلکار بھی جنگ کا نشانہ بنے جبکہ خلیجی ریاستوں اور بحری راستوں پر پیش آنے والے واقعات میں متعدد غیرملکی شہری بھی ہلاک ہوئے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان عالمی معیشت کو پہنچا۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق عالمی معیشت کو سالانہ بنیادوں پر تقریباً 2.2 ٹریلین ڈالر کا دھچکا لگا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی، سپلائی چین کی رکاوٹوں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دنیا بھر میں اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی۔ عالمی شرح نمو جو تین فیصد سے اوپر رہنے کی توقع تھی، کم ہو کر تقریباً 2.5 فیصد تک محدود ہو گئی۔
امریکہ بھی اس تنازع میں بھاری مالی قیمت ادا کرنے والے ممالک میں شامل رہا۔ دفاعی اور اقتصادی تجزیوں کے مطابق امریکہ کو مجموعی طور پر تقریباً 132 ارب ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ امریکہ کے براہ راست فوجی اخراجات 29 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے جبکہ خلیج اور مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔ خطے میں موجود تقریباً 20 امریکی فوجی اڈے کسی نہ کسی سطح پر ایران کے جوابی حملوں سے متاثر ہوئے۔
امریکی عسکری ذرائع کے مطابق جنگ کے دوران ایک ہزار سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل اور پندرہ سو سے زیادہ فضائی دفاعی میزائل استعمال کیے گئے۔ اس کے علاوہ درجنوں جنگی طیاروں کو نقصان پہنچا یا انہیں شدید آپریشنل دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف میزائل ذخائر کی بحالی پر ہی کئی ارب ڈالر خرچ ہوں گے جبکہ اس عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کو بھی بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ معاشی ماہرین کے مطابق دفاعی اخراجات، فضائی دفاعی نظام کے مسلسل استعمال، کاروباری سرگرمیوں میں کمی اور سیاحت کے شعبے میں بحران کے باعث اسرائیلی معیشت کو تقریباً 60 ارب ڈالر تک نقصان پہنچا۔ اسرائیلی وزارت خزانہ کے بعض تخمینوں کے مطابق جنگ کے آخری مراحل میں معیشت کو روزانہ کروڑوں ڈالر کے خسارے کا سامنا تھا۔
ایران اس جنگ کا سب سے بڑا معاشی اور انفراسٹرکچر متاثرہ ملک قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی جائزوں کے مطابق ایران میں تیل، گیس، مواصلات، بندرگاہوں، بجلی گھروں اور فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ مجموعی نقصان کے تخمینے 80 ارب ڈالر سے لے کر 350 ارب ڈالر تک بتائے جا رہے ہیں جبکہ بعض ماہرین کے مطابق مکمل تعمیر نو پر 300 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آ سکتی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ نے ایران کی پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت کو مزید کمزور کر دیا۔ ملکی کرنسی پر دباؤ بڑھا، سرمایہ کاری رک گئی اور صنعتی پیداوار متاثر ہوئی۔ اگر خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو ایران کی معیشت مزید 20 سے 25 فیصد تک سکڑ سکتی ہے۔
خلیجی ریاستیں اگرچہ براہ راست جنگ کا حصہ نہیں تھیں، تاہم انہیں بھی بڑے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور عمان کی تجارت، فضائی آپریشنز، توانائی کی ترسیل اور سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہوئے۔ مجموعی طور پر خلیجی ممالک کو تقریباً 58 ارب ڈالر سے زائد نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ قطر کے بارے میں مختلف تخمینوں میں 15 سے 60 ارب ڈالرز تک کے نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کو تقریباً 35 ارب ڈالرز تک کے معاشی اثرات برداشت کرنا پڑے۔ سعودی عرب کو بھی توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں اربوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا رہا، اگرچہ متبادل برآمدی راستوں نے بحران کو کسی حد تک محدود رکھا۔
جنگ کے دوران سب سے زیادہ تشویش آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہوئی جو دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل کا مرکزی راستہ سمجھی جاتی ہے۔ کئی ہفتوں تک عالمی منڈیاں اس خدشے کا شکار رہیں کہ اگر یہ گزرگاہ بند ہو گئی تو عالمی توانائی بحران جنم لے سکتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث خام تیل کی قیمتیں ایک مرحلے پر 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر میں مہنگائی کو ہوا دی۔ امریکہ سمیت متعدد ممالک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ عالمی سطح پر زرعی پیداوار کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کھاد کی قیمتوں میں تقریباً 47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں خوراک کی عالمی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی شدید بے یقینی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں نے محفوظ اثاثوں کا رخ کیا، سٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ بڑھا اور ابھرتی ہوئی معیشتوں سے سرمایہ نکلنے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے خلیجی راستوں کے لیے انشورنس نرخ بڑھا دیے جس سے عالمی تجارت کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوا۔
جنگ بندی کے بعد اگرچہ عالمی منڈیوں میں کسی حد تک استحکام لوٹ آیا ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ صرف ایک عارضی وقفہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں پائیدار سیاسی حل کے بغیر توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے خطرات برقرار رہیں گے۔ 108 روزہ ایران۔امریکہ جنگ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی سلامتی، غذائی رسد، مالیاتی منڈیوں اور کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی تک پھیل جاتے ہیں۔ اگرچہ بندوقیں خاموش ہو چکی ہیں، لیکن اس جنگ کے مالی اور انسانی زخموں کو بھرنے میں شاید کئی برس لگ جائیں۔
