کیا واقعی امپورٹڈ موبائل فون سستے ہونے والے ہیں؟

پاکستان میں درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز اور پی ٹی اے رجسٹریشن فیس طویل عرصے سے عوام کی شکایات کا موضوع رہی ہیں۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی بیرون ملک سے موبائل فون لاتے ہیں لیکن جب ان فونز کو رجسٹر کروانے کا مرحلہ آتا ہے تو کئی صارفین کو اصل قیمت کے علاوہ ہزاروں بلکہ بعض اوقات لاکھوں روپے تک اضافی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ حکومت نے موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی ہے اور پی ٹی اے ٹیکس میں بڑی کمی آنے والی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ دعویٰ مکمل طور پر درست نہیں۔ قومی اسمبلی کے رکن قاسم گیلانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے بیان کے بعد صارفین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اس اقدام سے درآمد شدہ موبائل فونز نسبتاً سستے ہو سکتے تھے۔
تاہم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ارکان نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک ریگولیٹری ڈیوٹی کے مکمل خاتمے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ کمیٹی کے ارکان ارشد وہرہ اور مرزا اختیار بیگ کے مطابق زیر غور تجویز صرف مخصوص سلیب میں ریلیف فراہم کرنے سے متعلق ہے۔ذرائع کے مطابق 201 سے 350 امریکی ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درمیانی قیمت کے فونز خریدنے والے صارفین کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے، تاہم مہنگے اور پریمیم موبائل فونز کے لیے موجودہ نظام بڑی حد تک برقرار رہ سکتا ہے۔اسی طرح یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ جسے عوام عام طور پر "پی ٹی اے ٹیکس” کہتے ہیں، اس کے مکمل خاتمے پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ درحقیقت اس میں کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات شامل ہوتے ہیں جن کی وصولی رجسٹریشن کے وقت کی جاتی ہے۔البتہ ایک اہم تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ حکومت صارفین کو قسطوں میں پی ٹی اے ٹیکس ادا کرنے کی سہولت فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو مہنگے موبائل فونز رجسٹر کروانے والوں کے لیے فوری مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
ٹیکس ماہرین کے مطابق حکومت کی نئی ٹیرف پالیسی 2030 تک درآمدی محصولات میں مرحلہ وار کمی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ موبائل فونز پر یہ اضافی ڈیوٹیز بنیادی طور پر مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ صنعت کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرائی گئی تھیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ مقامی صنعت محدود پیمانے پر ترقی کر سکی جبکہ صارفین کو مہنگے فونز خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے بجائے قومی اسمبلی کی حتمی سفارشات اور وفاقی بجٹ کی منظوری کا انتظار کریں۔ ابھی تک دستیاب معلومات کے مطابق موبائل فونز پر تمام ٹیکس ختم نہیں ہو رہے، البتہ مخصوص قیمت والے فونز پر ریلیف اور قسطوں میں ادائیگی کی سہولت کے امکانات ضرور موجود ہیں۔اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو پاکستان میں درآمد شدہ موبائل فونز کی قیمتوں میں کچھ حد تک کمی اور صارفین کے لیے آسانی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن "پی ٹی اے ٹیکس مکمل ختم” ہونے کی خبریں فی الحال حقیقت سے زیادہ خوش فہمی دکھائی دیتی ہیں۔
