امریکہ ایران معاہدے سے نیتن یاہو مشکل میں کیوں؟

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ عبوری امن معاہدے نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، لیکن اس کے سب سے زیادہ سیاسی اثرات اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل اپنے اعلان کردہ جنگی اہداف مکمل کرنے میں ناکام نظر آ رہا تھا۔ ایسے میں واشنگٹن کی جانب سے تنازعات کو کم کرنے کی کوششوں نے نہ صرف خطے کی سفارتی سمت بدلی بلکہ اسرائیلی قیادت کے لیے بھی نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
مبصرین کے مطابق نیتن یاہو پہلے ہی داخلی سطح پر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان پر بدعنوانی کے مقدمات، سیاسی تقسیم، اور سکیورٹی ناکامیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ اب ایران اور لبنان کے ساتھ جاری تنازعات میں واضح اور فیصلہ کن نتائج نہ نکلنے کے باعث ان کی قیادت مزید سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کا وہ دعویٰ کہ "ہم مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل رہے ہیں” اب سیاسی طور پر کمزور دکھائی دیتا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔غزہ اور لبنان میں جاری جنگوں کے نتیجے میں انسانی نقصان بھی شدید ہوا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کو بھی بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس صورتحال نے اسرائیل کے اندر جنگی حکمت عملی اور حکومت کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کی حکمران اتحادی جماعتوں کی مقبولیت میں کمی دیکھی جا رہی ہے، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی مختلف اتحاد بنا کر دوبارہ حکومت تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی واضح تناؤ کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ سفارتی رابطوں میں نیتن یاہو پر سخت ردعمل کا اظہار کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل کا سب سے اہم اتحادی بھی اب مکمل طور پر ایک ہی پالیسی پر متفق نہیں۔بین الاقوامی سطح پر ایران امریکہ معاہدے نے خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس معاہدے نے ایران کو وقتی سفارتی اور معاشی ریلیف دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی سٹریٹجک پوزیشن نسبتاً پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اگرچہ بعض فوجی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن وہ اپنے بنیادی سیاسی اور سکیورٹی اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو کو اب نہ صرف داخلی سیاست بلکہ خارجہ پالیسی میں بھی سخت سوالات کا سامنا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے انتخابات نیتن یاہو کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ حالات میں ان کی سیاسی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر یقینی ہو چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایران امریکہ معاہدہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ اس نے اسرائیل کی داخلی سیاست پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں، جن کا سب سے بڑا سیاسی بوجھ اس وقت نیتن یاہو کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
