ایران اور امریکہ کی جنگ میں کون سا ملک جیتا اور کونسا ہارا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ میں اگرچہ تمام فریقوں کو نقصان اٹھانا پڑا، تاہم امریکہ اور اسرائیل اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جبکہ ایران اس جنگ سے طویل المدتی سیاسی اور معاشی فوائد سمیٹنے میں کامیاب رہا۔ ان کے مطابق جنگ نے نہ صرف امریکہ کے واحد سپر پاور ہونے کے تاثر کو نقصان پہنچایا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔

سلیم صافی نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں کیا، جس میں انہوں نے اس تنازعے کے پانچ بنیادی کرداروں یعنی امریکہ، اسرائیل، ایران، خلیجی ممالک اور پاکستان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اپنے تجزیے میں سلیم صافی کا کہنا ہے کہ امریکہ اس جنگ کا سب سے طاقتور فریق ہونے کے باوجود اپنے اہم مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں رجیم چینج کے ارادے کے ساتھ میدان میں اترے تھے لیکن بھرپور فوجی طاقت استعمال کرنے کے باوجود ایرانی نظام حکومت کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعض مراحل میں ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ واشنگٹن خود اس بحران سے نکلنے کے لیے کسی تیسرے فریق کی مدد کا خواہاں ہے۔

سلیم صافی کے مطابق اس جنگ نے امریکہ کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا ہے کہ نیٹو کے کئی اتحادی ممالک نے واشنگٹن کا کھل کر ساتھ نہیں دیا جبکہ بعض ممالک نے امریکی کارروائیوں پر تنقید بھی کی۔ ان کے بقول جنگ کے باعث عالمی معیشت متاثر ہوئی اور دنیا کے مختلف ممالک امریکہ کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں امریکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی۔ سلیم صافی کے مطابق اگرچہ امریکہ نے ایران کو جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کامیابی حاصل کی، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ واشنگٹن اس سفارتی عمل سے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر پائے گا یا نہیں۔

اسرائیل کے بارے میں سلیم صافی کا کہنا ہے کہ اسے بھی کوئی بڑی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اسرائیل نہ تو ایران میں رجیم چینج کروا سکا اور نہ ہی ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہوا۔ اگرچہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کو جانی اور مالی نقصان پہنچا، تاہم سلیم صافی کے نزدیک یہ اسرائیل کی فیصلہ کن کامیابی قرار نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف تنقید میں اضافہ ہوا جبکہ امریکہ اور یورپ میں بھی اسرائیلی پالیسیوں کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوئی۔ سلیم صافی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جنگ کو جاری رکھنا چاہتے تھے لیکن بالآخر جنگ بندی کی طرف جانا پڑا، جو ان کے لیے سیاسی طور پر ایک دھچکے کے مترادف ہے۔

دوسری جانب سلیم صافی کے مطابق ایران نے اگرچہ انسانی جانوں، انفراسٹرکچر اور معیشت کے حوالے سے بھاری قیمت ادا کی، تاہم تزویراتی سطح پر وہ اس جنگ سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا۔ ان کے بقول ایران نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور حریفوں کے مشترکہ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اس جنگ کے دوران خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں کی بعض کمزوریوں کو بھی سمجھا اور آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔ سلیم صافی کے مطابق جنگ کے بعد ہونے والے ’’اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ‘‘ نے ایران کو نئی سفارتی گنجائش فراہم کی جبکہ پابندیوں میں نرمی اور تیل کی برآمدات کی بحالی سے اسے معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

تجزیہ نگار کے مطابق ایران کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کی اصل بارگیننگ چپ یعنی جوہری پروگرام بدستور اس کے پاس موجود ہے اور وہ مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے مزید اقتصادی اور سفارتی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے بقول اس جنگ نے ایران کو ایک نئی سفارتی اور تزویراتی زندگی عطا کی ہے۔
سلیم صافی نے خلیجی ممالک کو بھی اس جنگ کے متاثرین میں شمار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ممالک طویل عرصے سے امن، استحکام اور سرمایہ کاری کے محفوظ مراکز کے طور پر پہچانے جاتے تھے لیکن جنگ کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں نے اس تاثر کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے بعد سرمایہ کاروں اور عالمی کاروباری حلقوں کے اعتماد پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ نے خلیجی ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے اور اب ان ریاستوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اپنی سلامتی کے لیے مکمل طور پر امریکہ پر انحصار جاری رکھیں یا نئی حکمت عملی اختیار کریں۔
پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اس جنگ کا براہ راست فریق نہیں تھا، تاہم اس نے ابتدا ہی سے غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کی۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایران پر امریکی حملوں کی بھی مذمت کی اور خطے میں کشیدگی بڑھانے والے دیگر اقدامات پر بھی متوازن مؤقف اپنایا، جس کے باعث تمام فریقین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ سلیم صافی کے مطابق پاکستان نے بعد ازاں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کی راہ ہموار کی اور فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول ’’اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ‘‘ کا نام بھی پاکستان کی سفارتی کاوشوں کا اعتراف ہے اور اس پیش رفت نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور سفارتی اہمیت میں نمایاں اضافہ کیا۔

Back to top button