امریکہ ایران جنگ کا اصل فاتح کون؟

آٹھ سال قبل جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کی تھی تو اس فیصلے کو امریکی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا موڑ قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت سابق صدر باراک اوباما نے خبردار کیا تھا کہ اس اقدام کا انجام یا تو جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران ہوگا یا پھر مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ۔
آج، 2026 میں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اوباما کی پیش گوئی کسی نہ کسی شکل میں درست ثابت ہوئی۔ جنگ بھی ہوئی، تباہی بھی ہوئی، اربوں ڈالر کا نقصان بھی ہوا، لیکن آخرکار جو معاہدہ سامنے آیا، اس نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: اگر نتیجہ تقریباً وہی نکلا جو پہلے موجود تھا تو پھر جنگ کس نے جیتی اور کس نے ہاری؟متعدد بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اس سوال کا جواب ایران کے حق میں جاتا دکھائی دیتا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل کے اہداف واضح تھے۔ تہران پر دباؤ ڈالنا، اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا، بیلسٹک میزائل پروگرام پر قدغن لگانا اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کروانا۔ لیکن امن معاہدے کے متن پر نظر ڈالیں تو ان میں سے کوئی بھی بڑا ہدف مکمل طور پر حاصل ہوتا نظر نہیں آتا۔
معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم نہیں کر رہا۔ افزودہ یورینیم کے ذخائر موجود رہیں گے، صرف مستقبل میں ان کے بارے میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ایران پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی، تیل کی برآمدات کی بحالی اور منجمد اثاثوں تک رسائی کی راہ بھی ہموار کی جا رہی ہے۔ یہ وہی ایران ہے جسے چند ماہ قبل مغربی طاقتیں شدید اقتصادی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا شکار قرار دے رہی تھیں۔جنگ کا ایک اور اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے۔ دنیا کی توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ معاہدے کے تحت امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور اپنی فوجی موجودگی میں کمی پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ ایران نے صرف جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔اس بندوبست نے بعض مغربی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک اگر مستقبل میں آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا تو یہ تہران کے لیے ایک طاقتور اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی ہتھیار بن سکتا ہے۔
امن معاہدے کے بعد خطے کی سیاست میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں نے جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہوئے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک بھی اب تصادم کی بجائے استحکام اور اقتصادی تعاون کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ آٹھ سال پہلے جس جوہری معاہدے کو ٹرمپ انتظامیہ نے "خوفناک معاہدہ” قرار دے کر مسترد کیا تھا، آج کا فریم ورک بڑی حد تک اسی فلسفے کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے ایک جنگ لڑی گئی، ہزاروں جانیں متاثر ہوئیں اور خطے کو شدید عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی لیے بہت سے مبصرین اس نتیجے کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک سٹریٹجک ناکامی قرار دے رہے ہیں، جبکہ ایران کو ایک ایسے فریق کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس نے شدید دباؤ، معاشی پابندیوں اور فوجی کارروائیوں کے باوجود اپنے بنیادی مفادات کا بڑا حصہ محفوظ رکھا۔ تاہم حقیقت شاید اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایران کو معاشی ریلیف ضرور ملا ہے، لیکن اس کی معیشت کو جنگ کے نقصانات سے نکلنے کے لیے طویل عرصہ درکار ہوگا۔ دوسری جانب امریکہ نے بھی کم از کم وقتی طور پر مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کو روکنے اور توانائی کی عالمی سپلائی کو محفوظ بنانے کا مقصد حاصل کیا ہے۔
مبصرین کے بقول اگر ایک جملے میں نتیجہ نکالا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ جنگ کے میدان میں کوئی مکمل فاتح سامنے نہیں آیا، لیکن مذاکراتی میز پر ایران نسبتاً زیادہ فوائد حاصل کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ امریکہ کو اپنے کئی ابتدائی مطالبات سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ ناقدین کے مطابق تاریخ شاید اس جنگ کو ایک ایسے تنازعے کے طور پر یاد رکھے گی جس کا اختتام بالآخر اسی قسم کے سمجھوتے پر ہوا جسے روکنے کے لیے جنگ شروع کی گئی تھی۔
