امریکی نائب صدر نے فیلڈ مارشل کو انتہائی اہم کیوں قرار دیا؟

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت شہر برگن اسٹاک میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات سے قبل ایک مختصر مگر دلچسپ مکالمے نے عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دیکھتے ہی دوستانہ انداز میں کہا: ’’وٹس اپ مین، ہاؤ آر یو؟‘‘۔ بظاہر یہ ایک معمولی جملہ تھا، لیکن اس کے بعد ہونے والی گفتگو نے پاکستان کے سفارتی کردار کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا۔
کانفرنس ہال میں موجود وفود، سفارتکاروں اور میڈیا نمائندوں کے سامنے جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کی زندگی میں دو انتہائی اہم افراد ہیں؛ ایک ان کی بھارتی نژاد اہلیہ اور دوسرے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر۔ مبصرین کے بقول جے ڈی وینس کا یہ جملہ محض خوش طبعی نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے سفارتی روابط کی ایک پوری داستان موجود تھی۔
امریکی نائب صدر نے واضح الفاظ میں اعتراف کیا کہ گزشتہ مہینوں کے دوران ان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جتنی گفتگو ہوئی، شاید کسی اور شخصیت سے نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عاصم منیر کا سفارتی کردار نہ ہوتا تو شاید امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا یہ مرحلہ ممکن نہ ہو پاتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول یہ بیان اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ماضی میں پاکستان کو اکثر خطے کے مسائل کا حصہ سمجھا جاتا تھا، جبکہ آج وہ انہی مسائل کے حل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق برگن اسٹاک مذاکرات دراصل کئی ماہ کی خاموش سفارتکاری کا نتیجہ ہیں۔ امریکہ، ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مسلسل رابطوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں دونوں حریف ممالک مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ اس نے بیک وقت واشنگٹن، تہران، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے روابط کو متوازن رکھا۔ یہی توازن اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی متعدد مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی جا چکی ہے، جبکہ جے ڈی وینس کے حالیہ ریمارکس نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ امریکی قیادت پاکستان کو محض ایک علاقائی اتحادی نہیں بلکہ ایک مؤثر سفارتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
دوسری جانب اس بیان پر بھارت میں بھی بحث چھڑ گئی۔ بعض بھارتی مبصرین نے اسے غیر ضروری قرار دیا، جبکہ کچھ تجزیہ کاروں نے تسلیم کیا کہ ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کی موجودگی اور کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں اکثر اصل کامیابیاں بند کمروں میں ہونے والی سفارتکاری سے حاصل ہوتی ہیں۔ برگن اسٹاک میں جے ڈی وینس اور عاصم منیر کے درمیان ہونے والا مختصر مکالمہ شاید اسی خاموش سفارتکاری کی ایک جھلک تھا۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کسی پائیدار معاہدے تک پہنچتے ہیں تو تاریخ میں اس عمل کے اہم کرداروں میں پاکستان کا نام بھی شامل ہوگا۔ اور ممکن ہے کہ برگن اسٹاک کے ہال میں گونجنے والا وہ دوستانہ جملہ ’’وٹس اپ مین، ہاؤ آر یو؟‘‘ مستقبل میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے۔
