فسطائیت پر مبنی بل، ذمہ دار کون؟

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026ء نے ہمارے پارلیمانی نظام کو برہنہ کردیا ہے۔ فسطائیت کا شاہکار یہ بل قومی اسمبلی میں بجٹ پیش ہونے سے ایک دن پہلے11جون کو منظور ہوا۔یہاں سے مسودہ قانون ایوان بالا میں گیا تو اسٹینڈنگ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ خان کی سربراہی میں 16جون کو ہونیوالے اجلاس میں یہ ترمیمی بل زیر بحث آیا۔ تب تک منتخب عوامی نمائندے ہی نہیں میڈیا بھی بے خبر تھا کہ اس ترمیمی بل کے ذریعے کس طرح کی تخریب کاری کی جارہی ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں اس مسودہ قانون کے مندرجات زیر بحث آئے تو سب دنگ رہ گئے۔ترمیمی بل کی شق 27Aاور27Bنے سب کو حیران کر دیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ لائسنس یافتہ کمپنیوں کو کسی بھی دوسرے قانون، قواعدضوابط، پالیسی بائی لاز یا معاہدے کے باوجود ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم انفراسٹرکچر ،ٹیلی کام ٹاوریا اس طرح کے دیگر آلات کی تنصیب یا آپٹیکل فائبر کیبل بچھانےکیلئے وہی حقوق حاصل ہونگے جو ’’Right of Way‘‘ کو حاصل ہونگے جو ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996ء کی شق 2کی ڈیلی شقوں ma,mc اور qbمیں بیان کئے گئے ہیں ۔کوئی مالک ،لیز ہولڈر،کرایہ دار،سرکاری یا نجی ادارہ ان حقوق میں رکاوٹ نہیں ڈال سکے گا۔ لائسنس یافتہ کمپنیاں متعلقہ جائیداد،زمین یا عمارت کے مالک یا قابض سے باضابطہ منظوری طلب کریں گی،15دن میں جواب نہ ملنے پر یاد دہانی کا نوٹس بھیجا جائیگا اور 30دن بعد یہ پراپرٹی منظور شدہ تصور ہوگی۔ آگے چل کر کہا گیا ہے کہ عوامی رسائی کی صورت میں کسی قسم کی فیس، کرایہ یا چارج وصول نہیں کیا جائیگا۔یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ اگر اجتماعی طور پر چلائے جارہے منظم رہائشی منصوبوں جیسا کہ کوآپریٹو رہائشی سوسائٹی، رہائشی یا کمرشل نجی پراجیکٹس ،کنٹونمنٹ،ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی یا اس طرح کے رجسٹرڈ اور غیررجسٹرڈ نجی منظم ترقیاتی منصوبوںیا پھر وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومتوں کے زیر انتظام چل رہے منصوبوں کے ذریعے ان ٹیلی کام کمپنیوں کو رسائی درکار ہوگی تو کسی قسم کے چارجز، کرایہ یا فیس وصول نہیں کی جائیگی ۔ترمیمی بل کی شق 27Bکے مطابق جو شخص ٹیلی کام کمپنی کو 27Aکے تحت رسائی دینے سے انکاریا تاخیر کرے گا یا رکاوٹ ڈالے گا اسے پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔
یعنی ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنے ٹاور لگانے اور آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کیلئے اب اُسی قسم کی بدمعاشی کا قانونی اختیار دے دیا گیا ہے جو بڑی ہائوسنگ سوسائٹیز کے مالکان زمینوں پر قبضے کرنے کیلئے غیر قانونی طریقے سے کیا کرتے ہیں۔ اب ٹاور لگانے کیلئے کسی شخص سے کرایہ داری کا معاہدہ کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔جس طرح عدالتوں سے بوگس نوٹس جاری کروا نے کے بعد ایکس پارٹی یعنی یک طرفہ فیصلہ کروایا جاتا ہے اسی طرح ٹیلی کام کمپنی کاغذوں میں ظاہرکرے گی کہ متعلقہ شخص کو نوٹس بھیجا گیا مگر اس نے 30دن میں کوئی جواب نہیں دیا اور اسکے بعد جائیداد پر قبضہ کرلے۔ وہ شخص مزاحمت کرے تو 27Bکے تحت پانچ کروڑ روپے جرمانہ کر دے۔ اگر اس طرح کی تنصیبات کسی نجی ہائوسنگ سوسائٹی یا پھر حکومتوں کے ملکیتی رہائشی و کمرشل منصوبوں میں لگانا مقصود ہوں تو کسی قسم کی فیس یا کرایہ دینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ کنٹونمنٹس اور ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹیز کو بھی ایک ہی چھڑی سے ہانکتے ہوئے اس کیٹیگری میں شامل کردیا گیا ہے۔
اس متنازع بل پر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کی وفاقی وزیر شیزا فاطمہ کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے یقیناً متعلقہ وزیر کی حیثیت سے وہ قصوروار ہیں مگر یہ کسی ایک شخص کی غلطی نہیں بلکہ پورے پارلیمانی نظام پر سوالات اُٹھتےہیں ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اورٹیلی کام کے سیکرٹری ضرار ہاشم خان جو سابق وائس آرمی چیف جنرل یوسف خان کے صاحبزادے ہیں ،انہیں وزیراعظم شہباز شریف نے پرائیویٹ سیکٹر سے براہ راست سیکرٹری آئی ٹی لگایا تھا اور اس وقت یہ تاویل دی گئی تھی کہ سول سروس کے بجائے نجی شعبہ سے کسی قابل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل شخص کو آگے لانے سے معاملات بہتر ہونگے۔ سیکرٹری آئی ٹی اور انکی پوری ٹیم جس نے یہ ترمیمی بل تیار کیا، ان سے بازپرس ہونی چاہئے لیکن شرمندگی و خجالت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ کیا ہمارے منتخب عوامی نمائندے انگوٹھا چھاپ ہیں؟ ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026ء کے حوالے سے قومی اسمبلی میں ووٹنگ سے پہلے یقیناً یہ مسودہ قانون قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی میں پیش کیا گیا ہوگا، وہاں ہر حوالے سے بحث ہوئی ہو گی اور یہ تمام مراحل طے ہونے کے بعد ہی قومی اسمبلی سے منظور ہواہوگا۔کیا قومی اسمبلی کے کسی رُکن نے اس ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دینے سے پہلے اسے پڑھنے یا سمجھنے کی کوشش نہیں کی؟
دراصل ہمارے ہاں مقامی حکومتوں کا نظام کمزور ہوجانے سے پارلیمنٹ کا معیار پست ہوچلا ہے۔ بلدیاتی نمائندوں اور قانون سازوں کو گڈ مڈ کردیا گیا ہے ۔لوگ اپنے مسائل حل کروانے کیلئے جن ارکان پارلیمنٹ کو منتخب کرتے ہیں ،ان کی استعداد اور تعلیمی قابلیت اس سطح کی نہیں ہوتی کہ آئین اور قانون سازی میں فعال کردار ادا کرسکیں ۔انہیں اپنے حلقے کیلئے فنڈز اور ترقیاتی منصوبے حاصل کرنے کی فکر ہوتی ہے یا پھر پارٹی کا سیاسی ایجنڈا لیکرچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بالعموم اپوزیشن ان امور پر عقابی نظر رکھتی ہے اور حکومتوں کو من مانی قانون سازی سے روکنے کی کوشش کرتی ہے مگر یہاں تو اپوزیشن کا یک نکاتی ایجنڈا ہے قیدی نمبر 804۔ گاہے یوں لگتا ہے صرف بانی پی ٹی آئی قیدی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے سب ارکان پارلیمنٹ اس بیانیے کے اسیر ہوگئے ہیں۔ وطن عزیز کی صورتحال دیکھ کر آنگ سانگ سوچی کا قول یاد آرہا ہے کہ جمہوریت کی نقالی آمریت سے بھی بدتر ہے کیونکہ یہ لوگوں کو کچھ کرنے نہیں دیتی۔
