مذاکرات: نیک شگون

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
سیاست اور جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہونا معمول کی خبر ہے مگر پاکستان کی مسموم سیاسی فضا میں یہ تازہ ہوا کا جھونکا اور ایک نیک شگون ہے۔ ہر وہ شخص جو اس ملک میں سیاسی و معاشی استحکام اور جمہوری روایات کا داعی ہے اسے اس اقدام پر لازماً خوش ہونا چاہئے۔ آئین پاکستان کی رو سے ملک کے تمام معاملات عوامی رائے کے ذریعے حل کرنے کا سب سے بڑا پلیٹ فارم پارلیمان ہے مگر گزشتہ اڑھائی سال سے پارلیمان کے اندر مثبت ڈائیلاگ اور موثرمشاورت نہ ہونے کے سبب یہ فورم غیر متعلق ہو گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش کش اور لیڈر آف دی اپوریشن محمود اچکزئی کا اس پر صادکہنا، فی الحال کوئی بڑی خبر نہیں بنی ،بڑی خبربن بھی نہیں سکتی کہ حکومت اور پارلیمانی اپوزیشن کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن سیاست اور جمہوریت تویہی سکھاتی ہے کہ جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہی مستقبل کا راستہ نکالتے ہیں۔ انسانوں نے جنگوں، لڑائیوں اور اختلافات کے بعد مسائل کے حل کا ذریعہ مذاکرات ہی کو قرار دیا ہے۔ پہلی جنگ عظیم ورسائی معاہدےTreaty of Versailles پر اور دوسری جنگ عظیم یالٹا کانفرنس پر منتج ہوئیں۔ وار سیلزکا معاہدہ جرمنی نے مجبوری میں کیا اور یوں یہ معاہدہ ہی دوسری جنگ عظیم کی بنیاد بنا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان اور جرمنی نے غیر مشروط سرنڈر کیا لیکن بعدازاں یالٹا کانفرنس میں دیرپا امن پر معاہدے ہوئے۔ حالیہ امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ کا خاتمہ بھی معاہدہ اسلام آباد کے ذریعے ہوا ہے۔ سو لڑائی بیرونی ہو اندرونی اس کا حل مذاکرات اور معاہدےسے ہی نکلتا ہے۔
گزشتہ روز لاہور میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا ایک کھلا اجلاس ہوا جس میں سیاستدانوں، صحافیوں اور سماجی رہنماؤں نے مباحث میں حصہ لیا ،سب شرکاء کا اس پر اتفاق تھا کہ ملک کو عدم استحکام سے سیاسی استحکام کی طرف لے جانے کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں۔ تحریک انصاف کے سابق رہنما اور نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے سرگرم رکن محمود مولوی کی تقریر سب سے زیادہ اہم تھی محمود مولوی سیدھی بات کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں دوسری طرف وُہ مقتدرہ کے بھی قریب سمجھے جاتے ہیں، محمود مولوی نے کہا کہ’’ اگر تحریک انصاف انہیں مقتدرہ سے مذاکرات کا مینڈیٹ دے تو وُہ صرف 90دن میں ایک آبرومندانہ حل نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات سے یہ توقع نہ کی جائے کہ حکومت بدل جائیگی اور یا کوئی انقلاب آجائیگامگر ان مذاکرات سے لازماً حالات معمول پر آجائیں گے‘‘۔ ہو سکتا ہے واقعی محمود مولوی، سابق گورنر عمران اسماعیل، محمد علی درانی ،سابق گورنر چوہدری سرور اور چوہدری فواد حسین ایسے وقت میں پل کا کردار ادا کر سکیں جب دریائوں میں طوفان منہ زور ہوا جارہا ہے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے منتظمین حکومت کے خلاف اور مقتدرہ کے حق میں کھل کر بولے۔ سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کی اختتامی تقریر کی منطق سب سے دلچسپ اور نرالی تھی، محمد علی درانی نے کہا کہ نون والے بڑے چالاک ہیں انکی حکومت نے بڑی عیاری سے خود کو ہائبرڈ حکومت کہلانا شروع کر دیا ہے، محمد علی درانی کے مطابق اب ایسی حکومت جس میں مقتدرہ حصہ دار ہو اگر اپوزیشن اسکی مخالفت کرے تو وُہ غدار اور ملک دشمن ٹھہرے گی اگر حکومت ہائبرڈ ہے تو اپوزیشن بھی ہائبرڈ ہوگی تبھی حساب برابر ہوگا اور اپوزیشن واقعی حکومت پر تنقید کر سکے گی۔ محمد علی درانی نے کہا کہ حکومت اپنی غلطیاں مقتدرہ پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے رہی ہے مگر ایسا چلے گا نہیں۔ سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا فیلڈ مارشل نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو بہترین اور آئیڈیل ثالثی کے ذریعے ختم کروایا ہے وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھی ثالث بن کر اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی جتنی بھی نیک نیتی اور دل سوزی سے ڈیڈلاک کو ڈائیلاگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تلخ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت انہیں اپنا حصہ سمجھنے کی بجائے اپنا مخالف قرار دیتی آئی ہے، اب نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ایسا کیا کرے گی کہ اسے تحریک انصاف اور عمران خان کا اعتماد حاصل ہو جائے اور وہ واقعی قومی ڈائیلاگ میں کوئی مثبت کردار ادا کر سکے۔
پارلیمنٹ میں جو ڈائیلاگ شروع ہوا ہے اس میں اپوزیشن کی طرف سے محمود اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور سابق اسپیکر اسد قیصر نمایاں نظر آئے۔ محمود اچکزئی کو خود عمران خان نے اپوزیشن لیڈر بنوایا ہے، بیرسٹر گوہر کو بھی قانونی طریقے سے پارٹی چیئرمین منتخب کروانے کے پیچھے عمران خان تھے، اسد قیصر بھی عمران خان کے وفادار اور پرانے ساتھی ہیں مگر تحریک انصاف کے عقابوں کو ان تینوں رہنماؤں کی لیڈر شپ پر تحفظات ہیں اور اگر کل کو مذاکرات ہوئے بھی تو یہ عقاب، پارٹی کے اندر موجود فاختاؤں کو نشانے پر رکھ لیں گے۔ تحریک انصاف کا اصل مسئلہ ہی یہ بن گیا ہے کہ ہر وُہ شخص جو حکومت یا مقتدرہ سے رابطہ رکھتا ہے۔ وہ عقابوں کی نظر میں مشکوک ہو جاتا ہے اور پھر اسکے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈا کر کے اسےدیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا ذاتی وقار اور وزن، مقتدرہ کے ساتھ مذاکرات کار بننے میں مدد دے سکتا تھا مگر وُہ اس ڈر سے جیل سے باہر نہیں آرہے کہ کہیں انہیں بھی جیل کاٹنےکے باوجود غدار اور مقتدرہ کا چمچہ قرار نہ دے دیا جائے ۔ جب شاہ محمود قریشی جیسا لیڈر بھی انصافی یو ٹیوبرز سے ڈر کر دل کی بات نہ کر سکتا ہو تو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی اور پارلیمان کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ دباؤ کو کیوں محسوس نہ کریں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ چاہے غداری، وفا فروشی یا لفافہ گیری کے الزامات بھی لگیں تو مسائل کا حل مذاکرات میں ہی ہے سیاست اور جمہوریت میں ہتھیار اٹھاکریا کسی کو ڈرا کر آپ کوئی فیصلہ نہیں کروا سکتے۔ 9 مئی یا اس طرح کے مظاہرے اور جلائو گھیرائو کی پالیسی نے تحریک انصاف کو فائدے کی بجائے نقصان دیا ہے۔ پارٹی کو انتہا پسندی اور جارحیت کی لائن دینے والے سارے عقاب بیرون ملک محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھے ہیں جیل کا عذاب یا خان جھیل رہا ہے یا پاکستان میں موجود اسکے ساتھی۔ ظاہر ہے فیصلے کا اختیار بھی ملک کے اندر موجود خان کے نامزد کردہ لیڈروں کو ہی ہونا چاہئے نہ کہ بیرون ملک بیٹھے ہدایت کاروں کو۔ تحریک انصاف کو اس وقت علیمہ خان چلا رہی ہیں کیونکہ خان سے تو نہ رابطہ ہے اور نہ کوئی انہیں صورتحال بتانے والا ہے۔ خان کو جاننے والے خان کو تو خان ہی سمجھتے ہیں مگر ان کی بہن کو ’’ڈیڑھ خان‘‘ سمجھتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ خان سے مذاکرات ہو جائیں ڈیڑھ خان سے ممکن نہیں۔ محمود خان اچکزئی مذاکرات کیلئے بہترین اور موزوں شخص ہیں حکومت اور مقتدرہ بھی اس حوالے سے کوئی معتبر اور معزز شخص مقرر کرے تاکہ واقعی سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات ہو سکیں۔ برف پگھل کر دوبارہ سردیوں میں جم ہی نہ جائے گرمیوں میں ہی پگھلی ہوئی برف سے فائدہ اٹھا کر سیاسی پانی رواں کرنے کا بندوبست کرلیا جائے۔
