ناراض PTIاراکین نے آفریدی سرکار کو ٹھینگا کیسے دکھایا؟

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ایک نئے اور زیادہ حساس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں ناراض اراکین اسمبلی نے ترقیاتی فنڈز اور وزارتوں پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی سیاسی ترجیحات واضح کر دی ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ مؤقف اب کھل کر سامنے آ رہا ہے کہ ان کی پہلی اور مرکزی ترجیح بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے باقاعدہ اور منظم سیاسی تحریک کا آغاز ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبے اور حکومتی امور بعد میں زیر بحث آئیں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق چیئرمین بیرسٹر گوہر اور ناراض اراکین کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ صوبائی بجٹ کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں ایک اہم سیاسی اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں آئندہ کی احتجاجی حکمت عملی اور تحریک کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس مجوزہ اجلاس میں علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی شرکت بھی متوقع ہے، جس سے اس معاملے کو محض اندرونی اختلاف کے بجائے ایک وسیع تر سیاسی تحریک کی سمت جاتا ہوا دیکھا جا رہا ہے۔

ناراض اراکین نے اپنے مؤقف میں چار بنیادی اہداف واضح کیے ہیں جن میں بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کا انتظام، ان کے اہل خانہ کی خواہش کے مطابق علاج معالجے کی فراہمی، زیر التوا مقدمات کی مؤثر سماعت اور پیشیوں کا تسلسل، اور سب سے اہم ان کی رہائی شامل ہے۔ اراکین کا کہنا ہے کہ ان اہداف کے حصول کے لیے احتجاج اور عوامی تحریک ہی واحد مؤثر راستہ ہے، اور موجودہ حالات میں ترقیاتی فنڈز یا حکومتی مراعات ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ ناراض اراکین کا مؤقف ہے کہ جب وہ اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تو عوام اور کارکن مسلسل ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کیا کیے جا رہے ہیں۔ اسی دباؤ کے باعث ان اراکین نے پارٹی قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ تمام تر سیاسی توجہ اس بنیادی مسئلے پر مرکوز کی جائے۔

دوسری جانب صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے محض اعداد و شمار کا کھیل اور حقیقت سے دور منصوبہ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی حکومت نے سرپلس بجٹ کا دعویٰ کیا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس خسارے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کا مالی بوجھ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے، جو گزشتہ ایک دہائی میں نمایاں طور پر کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جن کے لیے نہایت معمولی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اسکیمیں عملی طور پر مکمل نہیں ہو سکتیں۔ بعض منصوبوں کے لیے اتنے کم فنڈز رکھے گئے ہیں کہ انہیں مکمل ہونے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں، جس سے ترقیاتی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی نے بھی بجٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اعداد و شمار کا گورکھ دھندا اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت مسلسل 13 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود حقیقی ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ بجٹ میں دکھائے جانے والے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔اے این پی رہنماؤں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ نئے ترقیاتی منصوبوں کی بڑی تعداد کو انتہائی کم یا علامتی فنڈز دیے گئے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ منصوبے عملی ترقی کے بجائے سیاسی توازن برقرار رکھنے یا داخلی اختلافات کو سنبھالنے کی کوشش ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم اور دیگر بنیادی شعبے بھی شدید نظرانداز ہو رہے ہیں، جہاں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، لیکن اس مسئلے کے حل کے لیے مختص فنڈز ناکافی ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس پوری صورتحال میں خیبر پختونخوا کی سیاست ایک غیر معمولی دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف اندرونی سطح پر پارٹی اراکین کی ترجیحات اور احتجاجی سیاست کا ابھرتا ہوا بیانیہ ہے، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے بجٹ اور حکومتی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ اختلافات اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو نہ صرف صوبائی حکومت کی پالیسی سازی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال مزید سیاسی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔

Back to top button