تہران کی معاشی سانسیں بحال، ایرانی تیل عالمی منڈی میں واپس آگیا

ایران اور امریکہ کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل کیلئے 60 روزہ خصوصی اجازت نامہ جاری کیے جانے کے بعد نہ صرف عالمی توانائی کی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا بلکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی بین الاقوامی سطح پر نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی حکام کا یہ فیصلہ دراصل اس مفاہمتی عمل کا حصہ ہے جس کی بنیاد پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران رکھی گئی۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ نے ایران پر عائد معاشی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کا عندیہ دیا تھا، اسی لئے تازہ امریکی اقدام کو اسی سلسلے کی پہلی عملی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیاں معطل کر دی گئی ہیں، بحری ناکہ بندی ختم ہو چکی ہے اور بعض منجمد اثاثے بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے ایران کو معاشی ریلیف ملنے کی توقع ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی رسد بہتر ہونے کے باعث قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سہولت ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری گزرگاہ برقرار رکھنے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دینے کے عہد کے نتیجے میں دی گئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسے ایک "اہم سنگ میل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کیلئے مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران اور امریکہ نے آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس مقصد کیلئے اعلیٰ سطحی نگرانی کمیٹی، تکنیکی ورکنگ گروپس اور مستقل سفارتی رابطوں کا نظام بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات کا ایک اہم پہلو لبنان کی صورتحال بھی رہا جہاں امریکہ کے اتحادی اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ایک مشترکہ ڈی کنفلیکشن سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد لبنان میں استحکام پیدا کرنا اور مزید فوجی تصادم سے بچنا ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے پہلے مرحلے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن، استحکام اور سفارتکاری کے فروغ کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس کامیابی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ انہی کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں یہ پیش رفت ممکن ہوئی۔
عالمی سطح پر اس معاہدے کے فوری اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے جبکہ سرمایہ کاروں کے خدشات میں بھی کمی آئی ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھتے رہے تو نہ صرف عالمی تیل منڈی مزید مستحکم ہوگی بلکہ مشرق وسطیٰ میں کئی برسوں سے جاری جغرافیائی کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
اگرچہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ باضابطہ جوہری مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے، تاہم اعتماد سازی کے حالیہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک تصادم کے بجائے سفارتکاری کے راستے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین اس پیش رفت کو صرف ایک معاشی یا توانائی سے متعلق فیصلہ نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے سیاسی مستقبل میں ممکنہ تبدیلی کا نقطۂ آغاز قرار دے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ مؤثر سفارتکاری اور مسلسل رابطے ایسے تنازعات کو بھی مذاکرات کی میز تک لا سکتے ہیں جو برسوں سے ناقابل حل دکھائی دیتے تھے۔ آنے والے 60 دن اس پورے عمل کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوں گے اور دنیا کی نظریں اب ایران، امریکہ اور ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک پر مرکوز ہیں۔
