ٹیکسٹائل ملز اور ایف بی آر کے درمیان کیمرے لگانے کا معاملہ شدت اختیار کرگیا

ٹیکسٹائل ملز اور ایف بی آر کے درمیان کیمرے لگانے کا معاملہ شدت اختیار کرگیا۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکسٹائل ملز مالکان کو اپنے خرچے پر کیمرے لگانے کا کہا تھا تاہم ٹیکسٹائل ملز نے کیمروں کا خرچ برداشت کرنے سے انکار کردیا۔
ذرائع کے مطابق ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے زبردستی کیمرے لگانے کی صورت میں فیکٹریاں بند کرنےکاعندیہ دیا گیا ہے۔ان کاکہنا ہےکہ ایف بی آر ٹیکس چوری روکنے کےلیے کیمرے لگانا چاہتا ہے، کسی صورت یہ کروڑوں روپے اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے۔
فیکٹری مالکان کےمطابق سیف سٹی کیمرے چالان کرتےہیں ان کا خرچ صارف برداشت نہیں کرتا لہٰذا ایف بی آر نے اپنی سہولت دیکھنی ہے تو خرچہ بھی وہی کرے اور اپنے خرچے پر کیمرے لگائے۔
فیکٹری مالکان کاکہنا تھا کہ صرف ٹیکسٹائل ملز نہیں جننگ اورسپننگ ملز کو بھی شامل کیا جائے،ٹیکسٹائل ملز تو صرف 180 رہ گئی ہیں،جننگ اور سپننگ ملز کی تعداد 1200 سے زائد ہے ان سے ٹیکس زیادہ مل سکتا ہے۔
