ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے: جے ڈی وینس

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر رابطے جاری ہیں۔گزشتہ روز مذاکرات کے حوالے سے ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت ہوئی جس میں متعدد اہم امور زیرِ غور آئے۔
سوئٹزرلینڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو باقاعدہ طور پر کھول دیاگیا ہے، ایرانی حکومت کے ساتھ معاملات مزید بگاڑنے کے بجائے آگے بڑھنے پر بات ہوئی۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی اور سفارتی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں فریق بعض اہم نکات پر مناسب ہم آہنگی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ سفارتی عمل خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایرانی ایٹمی پروگرام بند کرنے پر پیشرفت ہوئی ہے، تکنیکی ٹیمیں آگے کے عمل کو دیکھیں گی، ایران آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو واپس بلانے پر راضی ہے،مستقبل کے لائحہ عمل کےلیے مضبوط بنیاد فراہم کردی ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑائی کیسے روکی جائے،اس پر گفتگو ہوئی ہے،فائنل ڈیل کی بنیاد رکھ دی گئی لیکن ابھی بہت کچھ باقی ہے، ایرانی وفد نے واک آؤٹ کی دھمکی دی تھی لیکن مذاکرات میں موجود رہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات آئندہ دنوں تک جاری رہیں گے،یقینی بنائیں گے کہ معاملات کو آگے بڑھائیں،دھمکیاں ملیں گی تو امریکی صدر ریکارڈ کی درستی کےلیے بیانات بھی دیں گے،ریکارڈ کی درستی کےلیے میں بھی بیان جاری کرسکتا ہوں۔
امریکہ سے معاہدے کے باوجود ایران کا جوہری اور میزائل پروگرام برقرار
امریکی نائب صدر نے کہاکہ اچھی پیش رفت ہوئی ہے،پورے خطے میں جنگ بندی چاہتے ہیں،نہیں چاہتے کہ کہیں بھی کوئی واقعہ پورے خطے کو لپیٹ میں لےلے۔لبنان سے ڈرون حملہ ہوتا ہےتو اس کے جواب میں اسرائیل سے کارروائی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہم نے حزب اللہ پر ایران کے اثرورسوخ سے متعلق بات کی،سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ بھی رابطے رہے،اسرائیل کی سکیورٹی ناگزیر ہے،لبنان کی خود مختاری کی حفاظت بھی چاہتے ہیں،چاہتے ہیں کہ ایران حزب اللہ پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے اور انہیں روکے۔
