آزاد کشمیر میں اقتدار کی جنگ: ن لیگ پراعتماد، PPPپریشان کیوں؟

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پرتشدد احتجاج اور مظاہروں کے باوجود آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات 2026 کی سیاسی سرگرمیاں تیزی سے عروج کی جانب بڑھ رہی ہیں۔جیاں ایک طرف عوامی رابطہ مہم زوروشور سے جاری ہے وہیں سیاسی جوڑتوڑ کا سلسلہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ 53 رکنی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت 3 اگست 2026 کو مکمل ہو رہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن 27 جولائی کو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر چکا ہے۔ اس اعلان کے بعد تمام بڑی سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں سرگرم ہو چکی ہیں، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی شیڈول پر اعتراضات نے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا پیپلز پارٹی واقعی انتخابی ماحول پر تحفظات رکھتی ہے یا پھر وہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اپنی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے؟

مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی عکاس رہی ہے کہ یہاں کے ووٹر اکثر وفاق میں برسر اقتدار جماعت کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں، فنڈز اور انتظامی معاملات میں آسانی پیدا ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی سطح پر مضبوط سیاسی پوزیشن رکھنے والی مسلم لیگ (ن) اس وقت سب سے زیادہ پراعتماد دکھائی دے رہی ہے۔ شاہ غلام قادر، راجا فاروق حیدر اور دیگر مرکزی رہنماؤں کی قیادت میں پارٹی نے تقریباً تمام اہم حلقوں میں انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ انتخابات آئینی مدت کے اندر ہونا ضروری ہیں اور کسی بھی قسم کی تاخیر جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ وفاقی وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک بھی واضح کر چکے ہیں کہ انتخابی تاریخ آئینی تقاضوں کے مطابق مقرر کی گئی ہے اور اسے کسی سیاسی مطالبے کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے انتخابی شیڈول پر سنجیدہ اعتراضات اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے نیا شیڈول جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت نے انتخابات کے بائیکاٹ کے تاثر کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ کے مطابق پیپلز پارٹی صرف انتخابی ماحول کو بہتر بنانے اور مناسب حالات میں انتخابات کے انعقاد کی خواہاں ہے۔ سیاسی حلقے اس مؤقف کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے روایتی گڑھ میرپور اور کوٹلی میں ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے عوامی مسائل کے قریب نظر آنا چاہتی ہے، جبکہ بعض مبصرین کے نزدیک موجودہ سیاسی فضا میں مطلوبہ انتخابی نتائج نہ ملنے کے خدشات نے پارٹی کو دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں خصوصاً راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور دھرنوں نے سیاسی سرگرمیوں اور انتظامی معاملات کو متاثر کیا ہے۔ بعض علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہونے اور مواصلاتی مسائل کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اگرچہ بیشتر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مجموعی طور پر انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے، تاہم چند حساس حلقوں یا مخصوص اضلاع میں حالات کے پیش نظر پولنگ کے التوا کا امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہی صورتحال پیپلز پارٹی کے تحفظات کا ایک اہم جواز بھی سمجھی جا رہی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) اسے انتخابی عمل میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 2021 کے انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بننے والی پاکستان تحریک انصاف اس مرتبہ اندرونی اختلافات، فارورڈ بلاک کی سیاست اور تنظیمی کمزوریوں کے باعث مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم، قیادت کے اختلافات اور وفاقی سطح پر جاری سیاسی کشیدگی نے پارٹی کی انتخابی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کی قیادت میں مسلم کانفرنس بھی دوبارہ متحرک ہو چکی ہے اور باغ، پونچھ سمیت بعض علاقوں میں اپنا روایتی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چند نشستوں پر مسلم کانفرنس فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مرتبہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پونچھ ڈویژن کا مقامی سیاسی بیانیہ، میرپور ڈویژن میں برادری ازم اور وفاقی حکومت کا سیاسی اثر و رسوخ تین ایسے عوامل ہیں جو انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ (ن) نسبتاً زیادہ منظم اور متحرک دکھائی دیتی ہے جبکہ مسلم کانفرنس بھی مخصوص حلقوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہے۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی انتخابی شیڈول اور حالات پر تحفظات کے باعث دفاعی انداز میں نظر آ رہی ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ دیگر جماعتیں انتخابی میدان میں بھرپور انداز سے اتر چکی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی ابھی تک اپنی سیاسی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔

مبصرین کے بقول آزاد کشمیر انتخابات 2026 اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں، احتجاجی تحریکوں اور انتخابی بیانیوں کے درمیان مقابلہ روز بروز دلچسپ ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ انتخابات کے التوا کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، تاہم سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب آزاد کشمیر کے عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے یہ فیصلہ کریں گے کہ آئندہ پانچ برسوں کے لیے اقتدار کی باگ ڈور کس جماعت کے ہاتھ میں ہوگی۔

Back to top button