برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا اچانک مستعفی ہونے کا اعلان

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔
ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وہ نئی قیادت کے انتخاب کے مکمل ہونے تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔ ان کے مطابق لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے نامزدگیاں 9 جولائی سے شروع ہوں گی، جبکہ نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی سے انتخابی شیڈول طے کرنے کی درخواست بھی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے بارہا یہ تاثر دیا گیا کہ لیبر پارٹی کمزور ہو چکی ہے، تاہم وہ پارٹی کے مفاد اور خواہش کو مدِنظر رکھتے ہوئے قیادت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی قیادت کے انتخاب کا باقاعدہ ٹائم ٹیبل جلد جاری کیا جائے گا۔
کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ آج صبح ان کی کنگ چارلس سے بھی گفتگو ہوئی، جبکہ وہ اپنے جانشین کو مکمل تعاون اور بھرپور حمایت فراہم کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقتدار کی منتقلی کے عمل کو منظم اور ہموار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حکمران لیبر پارٹی کے اندر اسٹارمر پر استعفے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا تھا، جبکہ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم نئی قیادت کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران یہ تیسرا موقع ہے جب برطانیہ میں کسی وزیراعظم نے عام انتخابات میں شکست کے بجائے اپنی ہی جماعت کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث اقتدار چھوڑنے کا اعلان کیا ہے
