ایرانی صدر کے ایک روزہ دورہ پاکستان کا اصل مقصد کیا ہے؟

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان پاکستان سے اظہار تشکر کیلئے کل ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے، جہاں وہ ملکی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی صدر اپنے دورے کے دوران صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں حالیہ ایران امریکا مفاہمت اور مذاکراتی پیش رفت بھی زیرِ بحث آئے گی، جبکہ تجارت، سرحدی تعاون، اقتصادی روابط اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو متوقع ہے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت علاقائی اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی تازہ پیش رفت کے ساتھ ساتھ مختلف کثیرالجہتی امور پر بھی مشاورت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق ایرانی صدر صبح پاکستان پہنچیں گے اور مختلف سرکاری مصروفیات اور اہم ملاقاتوں کے بعد شام کے وقت واپس ایران روانہ ہو جائیں گے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر پزیشکیان کا یہ دورہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ پیش رفت اور اس دوران پاکستان کے سفارتی کردار کے تناظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران پاکستان کی جانب سے ادا کیے گئے کردار اور سفارتی کوششوں پر اظہارِ تشکر بھی اس دورے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔علاوہ ازیں، ایرانی صدر کی پاکستانی قیادت سے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جن میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور علاقائی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امور زیرِ غور آئیں گے۔ذرائع کے مطابق ایرانی صدر کے دورے کے سلسلے میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے استقبال و سیکیورٹی کے حوالے سے تیاریوں کو حتمی شکل دے چکے ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی صدر کا یہ دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور ایران و امریکا کے درمیان جاری مذاکرات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق ڈاکٹر مسعود پزیشکیان کا دورۂ پاکستان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اہم علاقائی معاملات پر ہم آہنگی بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button