امریکہ سے معاہدے کے باوجود ایران کا جوہری اور میزائل پروگرام برقرار

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تقریباً چار ماہ تک جاری رہنے والی جنگ اور اس کے خاتمے کے لیے ہونے والے حالیہ معاہدے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے فروری میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو خطے میں بڑی تبدیلی لانے اور ایران سے وابستہ خطرات کے خاتمے کی کوشش قرار دیا تھا، تاہم تقریباً 100 روز گزرنے کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ اس اہم معاملے کا حتمی فیصلہ اب آئندہ مذاکرات سے مشروط ہے۔تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی برقرار ہے، جبکہ خطے میں اس کے اتحادی گروپ بدستور سرگرم ہیں۔ اسی طرح ایران کا سیاسی نظام بھی اپنی جگہ موجود ہے، اگرچہ ملک میں نئی قیادت سامنے آ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی اور جھڑپیں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں، جبکہ حالیہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کو اہم معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ امریکا کی عسکری برتری ثابت کرنے کے بجائے تنازع کو مزید بڑھانے سے گریز اور سفارتی حل کو ترجیح دینے کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرنے اور مؤثر جوابی کارروائی کی صلاحیت کو اپنی اہم کامیابی قرار دے رہی ہے۔
