کیا واقعی ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ بحال ہونے والا ہے؟

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا سرکاری دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کی سیاسی اور معاشی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے توانائی بحران نے ایک بار پھر پاک۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو قومی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق تین دہائیوں پر محیط اس منصوبے کو کبھی ’’امن پائپ لائن‘‘ کہا جاتا تھا، کیونکہ اس کا مقصد نہ صرف توانائی کی فراہمی بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون اور استحکام کو فروغ دینا بھی تھا۔ تاہم عالمی سیاست، امریکی پابندیوں اور معاشی خدشات نے اس خواب کو حقیقت بننے سے روک رکھا تھا۔ تاہم امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے بعد ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستانی عوام، صنعتکاروں اور توانائی ماہرین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ دورہ اس تاریخی منصوبے کیلئے کوئی فیصلہ کن پیش رفت لا سکے گا یا نہیں۔
تجزیہ کاروں کے بقول پاکستان اس وقت گیس کی شدید قلت، مہنگی درآمدی ایل این جی، بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اور صنعتی شعبے کی توانائی ضروریات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایران سے نسبتاً سستی اور مستقل گیس کی فراہمی پاکستان کیلئے ایک پرکشش اور عملی حل تصور کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبہ تقریباً 2700 کلومیٹر طویل ہے اور ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو پاکستان سے ملاتا ہے۔ ایران اپنی حدود میں پائپ لائن کا بیشتر حصہ مکمل کر چکا ہے، جبکہ پاکستان مختلف بین الاقوامی اور مالیاتی رکاوٹوں کے باعث ابھی تک تعمیراتی کام کا آغاز نہیں کر سکا۔ اس منصوبے میں اصل رکاوٹ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں رہی ہیں۔ واشنگٹن طویل عرصے سے اس منصوبے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور پاکستان کو خبردار کرتا رہا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں اسے پابندیوں یا مالیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد توانائی کی شدید ضرورت کے باوجود محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے تھا۔
تاہم حالیہ امریکہ۔ایران مذاکرات نے صورتحال کو کسی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ اگر پابندیوں میں نرمی یا استثنا حاصل ہو جاتا ہے تو پاکستان کیلئے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی راہ نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر کے دورے کو محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ توانائی تعاون کے مستقبل کیلئے ایک اہم موقع تصور کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی ترجیح دوہری ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ قانونی تنازع اور ممکنہ 18 ارب ڈالر کے جرمانے سے بچنا، اور دوسری طرف توانائی بحران کے مستقل حل کیلئے منصوبے کو قابلِ عمل بنانا۔ اسی مقصد کیلئے اسلام آباد نے منصوبے کی ڈیڈ لائن میں توسیع، گیس کی قیمتوں اور سپلائی کے حجم پر نظرثانی سمیت متعدد تجاویز تیار کی ہیں۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران کیلئے بھی یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا کے بڑے گیس ذخائر رکھنے کے باوجود ایران کو اپنی توانائی برآمد کرنے کیلئے محدود مواقع میسر ہیں۔ پاکستان جیسی بڑی اور قریبی منڈی نہ صرف ایران کیلئے قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ خطے میں اس کے اقتصادی اثر و رسوخ کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں فوری طور پر کسی بڑے اعلان یا عملی معاہدے کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس دورے کے دوران تکنیکی مذاکرات، سیاسی اتفاقِ رائے اور مستقبل کے روڈ میپ پر پیش رفت ہو جاتی ہے تو یہ بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ایک گیس پائپ لائن نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی سلامتی، صنعتی ترقی اور علاقائی اقتصادی تعاون کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ایرانی صدر کے دورۂ اسلام آباد کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا تین دہائیوں سے تعطل کا شکار یہ منصوبہ واقعی عملی شکل اختیار کرنے جا رہا ہے یا ابھی اسے مزید سفارتی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت نے اس منصوبے میں نئی جان ڈال دی ہے اور پاکستان کیلئے ایک ایسا موقع پیدا کیا ہے جو مستقبل میں ملکی توانائی منظرنامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔
