کیا قازقستان پاک افغان تعلقات کی بحالی میں کامیاب ہو پائے گا؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ایک بار پھر ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سرحدی کشیدگی، سکیورٹی خدشات، باہمی الزامات اور اعتماد کے فقدان نے دونوں ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں ہمسایہ ملک چین کے بعد اب قازقستان کی جانب سے ثالثی کی پیش کش ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے جس نے خطے کے سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
خیال رہے کہ قازقستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر اقتصادیات سریک ژومانگارین نے کابل میں واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان باضابطہ طور پر درخواست کریں تو آستانہ دونوں ممالک کے درمیان غیر جانبدار اور منصفانہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ پیش کش محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ وسط ایشیا کے ابھرتے ہوئے کردار اور علاقائی استحکام میں قازقستان کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاس بھی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ سرحدی علاقوں میں کشیدگی، دہشت گردی کے واقعات، شدت پسند گروہوں کی موجودگی کے الزامات اور حالیہ ڈرون حملوں کے دعووں نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں متعدد مذاکراتی کوششیں کی گئیں لیکن وہ دیرپا نتائج دینے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایک غیر جانبدار تیسرے فریق کی موجودگی کو کئی مبصرین مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
مبصرین کے بقول ایسے وقت میں قازقستان کی ثالثی کی پیش کش کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ آستانہ ماضی میں بھی علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں مکالمے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ قازقستان خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جو تنازعات کے حل کیلئے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔ قازق حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان اور افغانستان صرف پڑوسی ممالک نہیں بلکہ مذہبی، ثقافتی، تاریخی اور معاشی رشتوں سے جڑے ہوئے دو برادر اسلامی ممالک ہیں۔ دونوں کی سلامتی، تجارت اور علاقائی استحکام ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، اس لیے کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔
دوسری جانب افغانستان کیلئے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کی حالیہ تجاویز بھی قابل توجہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک نئے اور جامع معاہدے کی ضرورت ہے جس کے تحت پاکستان اور افغانستان اس بات کی ضمانت دیں کہ ان کی سرزمین کسی تیسرے فریق یا مسلح گروہ کی جانب سے دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔یہ تجویز درحقیقت پاکستان کی طویل عرصے سے موجود سکیورٹی تشویشات اور افغانستان کے خودمختاری سے متعلق خدشات کے درمیان ایک متوازن راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ اگر اس معاہدے کی نگرانی کسی غیر جانبدار تیسرے فریق کے سپرد کر دی جائے تو اعتماد سازی کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اقتصادی نقطۂ نظر سے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات پورے خطے کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ وسط ایشیا کو پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی، افغانستان کی اقتصادی بحالی، تجارتی راہداریوں کی ترقی اور علاقائی رابطوں کے منصوبے اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد اور تعاون کا ماحول موجود ہو۔سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان قازقستان کی پیش کش قبول کریں گے؟
مبصرین کے مطابق ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے فوری پیش رفت کی توقع شاید قبل از وقت ہوگی، تاہم موجودہ حالات میں دونوں ممالک کیلئے مذاکرات کا کوئی بھی موقع نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ مسلسل کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں اور سلامتی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ پورے خطے کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ قازقستان کی ثالثی کی پیش کش دراصل ایک سفارتی موقع ہے جو اسلام آباد اور کابل کو الزام تراشی اور محاذ آرائی سے نکل کر مکالمے اور اعتماد سازی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر دونوں فریق سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں تو آستانہ مستقبل میں ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو سکتا ہے جہاں صرف اختلافات ہی نہیں بلکہ مشترکہ مفادات پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ خطے کی موجودہ صورتحال میں شاید یہی وہ راستہ ہے جس کی اس وقت پاکستان اور افغانستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
