امریکہ ایران امن مذاکرات: 60 دن میں کیا ہونے والا ہے؟

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں فوری جنگ کے خطرات تو وقتی طور پر کم ہوئے ہیں، لیکن اصل سیاسی اور سفارتی امتحان ابھی شروع ہوا ہے۔ اگلے 60 دن ان مذاکرات کے لیے فیصلہ کن تصور کیے جا رہے ہیں، جن میں یہ طے ہونا ہے کہ آیا دونوں ممالک ایک نئے جوہری معاہدے تک پہنچ پاتے ہیں یا مشرقِ وسطیٰ دوبارہ شدید کشیدگی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ پیش رفت کو حتمی معاہدے کی طرف آخری قدم نہیں بلکہ ایک نازک عبوری مرحلہ سمجھا جانا چاہیے، جس میں سب سے بڑا چیلنج مذاکرات کو جاری رکھنا اور انہیں کسی بھی تعطل سے بچانا ہے۔ سابق سفارتکار ضمیر اکرم کے مطابق اصل مسئلہ صرف معاہدے کی شرائط نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ مذاکرات مسلسل آگے بڑھتے رہیں، جبکہ دوسرا بڑا چیلنج امریکی پالیسی میں غیر یقینی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے فیصلوں کا طرزِ عمل ہے۔
خیال رہے کہ یہ مذاکرات ایک ایسے خطے میں ہو رہے ہیں جہاں اسرائیل کی غزہ اور لبنان میں جاری کارروائیاں بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی علاقائی کشیدگی پہلے بھی سفارتی کوششوں میں رکاوٹ بن چکی ہے اور اب بھی کسی بڑے معاہدے کی راہ میں اہم رکاوٹ بن سکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدےمیں شامل سابق مذاکرات کار ایلن آئر کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ ایران کیا کرے گا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کس حد تک بین الاقوامی نگرانی قبول کرتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئے معاہدے کا موازنہ 2015 کے معاہدے سے تب ہی ممکن ہوگا جب یہ عمل مکمل ہو جائے۔ موجودہ 60 روزہ روڈ میپ میں کئی اہم اور حساس نکات شامل ہیں جن پر بیک وقت بات چیت جاری ہے۔ ان میں ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، یورینیم افزودگی کی حد، تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کا معاملہ، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا خاتمہ اور خطے خصوصاً لبنان میں جنگ بندی جیسے اہم امور شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نگرانی اور تصدیق کے ایک نئے نظام پر بھی بات چیت جاری ہے جو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا بنیادی ستون ہوگا۔ مذاکرات کے دوران صورتحال کئی بار انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکی تھی، حتیٰ کہ بعض مواقع پر یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ بات چیت مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن اسٹاک میں ہونے والے اجلاس کے دوران ایک موقع پر ایرانی وفد کے مذاکرات سے الگ ہونے کے اعلان نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا تھا، تاہم پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں سے مذاکرات دوبارہ بحال ہو گئے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق اسلام آباد کی معاونت سے ہونے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس مثبت اور تعمیری ماحول میں مکمل ہوا، جس میں 60 دن کے اندر حتمی لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا۔ اس میں سیاسی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام اور تکنیکی مذاکرات کے آغاز جیسے اہم فیصلے شامل ہیں۔
تاہم سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ 60 دن کی یہ مدت بنیادی طور پر ایک روڈ میپ ہے، کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں۔ اس میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے، خاص طور پر اگر فریقین کسی بڑی پیش رفت کے بغیر بھی مذاکرات جاری رکھنے پر متفق رہیں۔
سابق سفارتکاروں کے مطابق سب سے مشکل مرحلہ یورینیم افزودگی اور افزودہ مواد کے مستقبل پر اتفاق ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران کے پاس موجود حساس مواد کسی تیسرے ملک کو منتقل کیا جائے، جبکہ ایران اس پر سخت مؤقف رکھتا ہے کہ وہ اسے خود کنٹرول کرے گا یا تلف کرے گا۔ اسی طرح اقتصادی پابندیوں میں نرمی بھی ایک بڑا متنازع نکتہ ہے جس پر دونوں ممالک کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔اسی دوران وکٹر جے ولی جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ اس تنازع سے نکلنے میں دلچسپی رکھتی ہے، تاہم اصل پیچیدگی صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل، لبنان اور پورے خطے کی جغرافیائی سیاست بھی اس عمل کو متاثر کر رہی ہے۔
مبصرین کے بقول مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اگلے 60 دن صرف ایک سفارتی مدت نہیں بلکہ ایک ایسا امتحان ہیں جو یہ طے کرے گا کہ آیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے سفارتی معاہدے کی طرف بڑھتا ہے یا ایک بار پھر کشیدگی اور ممکنہ تصادم کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اس وقت صورتحال امید اور غیر یقینی کے درمیان معلق ہے، جہاں ہر پیش رفت کے ساتھ ساتھ ایک نئی پیچیدگی بھی جنم لے رہی ہے۔
