نون لیگ کرنسی نوٹوں پر نواز شریف کی تصویر کا مطالبہ کیوں کرنے لگی؟

چوک چوراہوں، سرکاری عمارتوں، ہسپتالوں، قبرستانوں اور کوڑے دانوں تک پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تصاویر آویزاں کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) اب شخصیت پرستی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں بعض لیگی رہنماؤں نے اب کرنسی نوٹوں پر قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ نواز شریف کی تصویر شامل کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ارشد ملک کی جانب سے پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ سابق وزیراعظم نواز شریف کی تصویر شامل کرنے کی تجویز نے ملک بھر میں ایک نئی سیاسی اور آئینی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور جدید سکیورٹی فیچرز پر کام کر رہا ہے، تاہم تاحال کسی بھی نوٹ پر قائداعظم کے علاوہ کسی اور سیاسی شخصیت کی تصویر شامل کرنے کے حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

اس حوالے سے ایم پی اے ارشد ملک کا مؤقف ہے کہ نواز شریف نے پاکستان کی معاشی ترقی، موٹرویز اور انفراسٹرکچر منصوبوں، ایٹمی پروگرام کے استحکام اور اقتصادی اصلاحات میں نمایاں کردار ادا کیا، لہٰذا ان کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں کرنسی نوٹ پر جگہ دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک اپنی تاریخ کے اہم رہنماؤں کو کرنسی پر نمایاں کرتے ہیں، اس لیے پاکستان میں بھی ایسی روایت پر غور کیا جا سکتا ہے۔

تاہم پاکستان کی مالیاتی اور مانیٹری تاریخ اس حوالے سے ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے آج تک جاری ہونے والے تمام باقاعدہ کرنسی نوٹوں پر صرف قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر ہی قومی شناخت اور ریاستی تسلسل کی علامت کے طور پر موجود رہی ہے۔ کسی بھی سیاسی رہنما کو مستقل طور پر پاکستانی کرنسی نوٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا، جس کی وجہ قومی اتفاق رائے اور قائداعظم کی غیر متنازع حیثیت کو قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ماضی میں مختلف قومی شخصیات کو یادگاری سکوں اور خصوصی یادگاری نوٹوں کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا جاتا رہا ہے۔ 2003 میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر یادگاری سکہ جاری کیا گیا، جبکہ 2008 میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی یاد میں خصوصی یادگاری سکہ متعارف کرایا گیا۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود ان شخصیات کو باقاعدہ کرنسی نوٹوں پر جگہ نہیں دی گئی۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے متعدد بار مطالبہ کیا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، لیاقت علی خان اور دیگر قومی شخصیات کو بھی پاکستانی کرنسی پر نمائندگی دی جائے۔ 2022 میں پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر جاری کیے گئے 75 روپے کے یادگاری نوٹ کے دوران بھی یہ بحث سامنے آئی تھی کہ قومی تاریخ کے دیگر رہنماؤں کو بھی کرنسی پر جگہ دی جانی چاہیے، تاہم یہ مطالبات عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

اسی طرح 2024 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر قومی کرنسی نوٹوں پر شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی قیادت کا مؤقف تھا کہ آئین پاکستان کی تشکیل، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے اور جمہوری جدوجہد میں کردار کے باعث بھٹو کو قومی سطح پر مزید اعزاز دیا جانا چاہیے۔ تاہم اس تجویز کو بھی اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت کی جانب سے عملی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں کرنسی نوٹ صرف مالیاتی دستاویز نہیں بلکہ قومی شناخت کی علامت بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر کو قومی وحدت اور ریاستی تسلسل کی نمائندگی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کسی فعال یا متنازع سیاسی شخصیت کو کرنسی نوٹ کا حصہ بنانا سیاسی اختلافات کو مزید ہوا دے سکتا ہے اور قومی سطح پر نئی بحثوں کو جنم دے سکتا ہے۔

بعض حلقے نواز شریف کی خدمات کے اعتراف میں اس تجویز کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایک سیاسی رہنما کو کرنسی پر جگہ دی جاتی ہے تو پھر دیگر قومی اور سیاسی شخصیات کے حامی بھی اسی نوعیت کے مطالبات کریں گے، جس سے قومی کرنسی سیاسی تنازعات کا مرکز بن سکتی ہے۔

تاہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کے موجودہ مؤقف کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد جاری کیے جائیں گے، تاہم ابھی تک ایسی کوئی تجویز سرکاری سطح پر زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ نواز شریف کی تصویر کو پانچ ہزار روپے کے نوٹ پر شامل کرنے کی تجویز فی الحال ایک سیاسی مطالبہ اور عوامی بحث کا موضوع تو بن سکتی ہے، لیکن پاکستان کی مالیاتی روایت اور موجودہ پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے اس کے عملی امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی کرنسی کی تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر قومی شناخت کی مستقل علامت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی قومی کرنسی پر کسی نئی سیاسی شخصیت کو شامل کرنے کا معاملہ صرف مالیاتی نہیں بلکہ قومی اتفاق رائے، سیاسی حساسیت اور تاریخی روایت سے جڑا ہوا سوال بن چکا ہے۔

Back to top button