پاکستان نے مذاکراتی عمل میں تاریخی کردار ادا کیا : وزیراعظم

 

 

 

وزیراعظم شہباز شریف نے پوری قوم، پارلیمنٹ اور اپوزیشن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے مذاکراتی عمل میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جارہا ہے اور عالمی میڈیا نے بھی اس مثبت کردار کو نمایاں کوریج دی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک تاریخی دن ہے اور وہ قومی معاملات پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کےلیے فعال کردار ادا کررہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ چند روز قبل امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت پر پاکستان نے بطور ثالث دستخط کیے،پاکستان نے سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کےلیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔آج امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوچکی ہے جب کہ آئندہ 60 روز کے دوران تکنیکی سطح پر مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا،یہ مفاہمتی یادداشت مستقبل میں ایک مکمل اور دیرپا امن معاہدے کی شکل اختیار کرلے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات گزشتہ تین ماہ کے دوران مزید مضبوط ہوئےہیں، جب کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کےلیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

ملکی سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ اگر انتخابات کی تحقیقات کرنی ہیں تو 2018 کے عام انتخابات سے آغاز کیا جائے، 2018 کے انتخابات میں جادوگری ہوئی اور بکس بھرےگئے،اگر پی ٹی آئی کو تحقیقات کا شوق ہے تو پھر 2018 کے انتخابات کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔بات نکلی تو بہت دور تک جائے گی،اسلیے حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر کو حقائق کے منافی قراردیتے ہوئے کہاکہ ایوان میں کی گئی بعض باتیں درست نہیں تھیں۔

لبنان پر اسرائیلی حملوں نے مذاکراتی عمل کو شدید متاثر کیا: اسحاق ڈار

وزیراعظم نے وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیتےہوئے کہاکہ آج تمام صوبوں کے درمیان باہمی یکجہتی موجود ہے اور چاروں صوبوں کو ترقی کی دوڑ میں برابر کا شریک ہونا چاہیے،پنجاب سالانہ 11 ارب روپے دیگر صوبوں کے ساتھ اپنے حصے کے طور پر فراہم کررہا ہے تاکہ قومی یکجہتی اور متوازن ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔

 

Back to top button