ایران جوہری مقامات پر عالمی معائنہ کاروں کو رسائی نہیں دے گا : ایرانی وزارت خارجہ

 

 

 

 

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے ایران نے ہر مرحلے پر اپنی خود مختاری اور قومی وقار کے دفاع کو اولین ترجیح دی، ہم جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو جوہری مقامات کا دورہ کروانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہاکہ امریکا اسرائیل جنگ کے خلاف ایران کا ردعمل استقامت، دفاع اور فخر کی داستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ منجمد اثاثوں کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں،فنڈز مکمل آزادی سے استعمال ہوں گے،فنڈز کے استعمال کے طریقہ کار پر کسی بیرونی شرط کو قبول نہیں کیا جائےگا،منجمد رقوم کا استعمال ایران اپنی قومی پالیسی کے مطابق کرے گا۔

اسماعیل بقائی نے کہاکہ جنگ میں طاقت ثابت نہ ہوتو معاہدے کے بعد مبالغہ آرائی سے بھی ثابت نہیں ہوتی،معاہدہ حقیقت اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے،خودساختہ دعوؤں پر معاہدے قائم نہیں رہتے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان میں حملے روکنے پر امریکا کو مجبور کرنا ہی ہوگا،اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے،لبنان میں جنگ کے خاتمے کی ذمہ داری سابق اور موجودہ معاہدوں کا حصہ ہے،اسرائیل حزب اللہ تنازع ایک پیچیدہ معاملہ ہے،آئندہ دنوں میں اسرائیل اور لبنان سے متعلق حتمی معاملات طے پاسکتے ہیں۔

امریکہ ایران امن مذاکرات: 60 دن میں کیا ہونے والا ہے؟

اسماعیل بقائی نے بتایاکہ سوئٹزرلینڈ میں ہونےوالی چار فریقی مذاکراتی نشست تقریباً 90 منٹ جاری رہی، وقفے کےبعد ایرانی وفد نے براہ راست اجلاس دوبارہ شروع نہیں کیا،وقفے کےبعد ایران نے بات چیت کو بالواسطہ مذاکرات کی شکل میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

 

 

Back to top button