پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تحلیل کا صدارتی آرڈیننس کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل کمیشن پی ایم سی کوغیر قانونی قرار دیتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل پی ایم ڈی سی کو تحلیل کرنے کا صدارتی آرڈیننس کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کے تمام ملازمین کو بھی بحال کرنے کا فيصلہ دے دیا.
پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں پی ایم ڈی سی کے ملازمین کی جانب سے صدارتی آرڈینس کو چیلنج کیا گیا تھا،
یاد رہے کہ 20 اکتوبر کو صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرڈیننس نافذ کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو تحلیل کردیا تھا جس کے نتیجے میں پی ایم سی کے نام سے نئے ادارے کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔ بعدازاں 28 اکتوبر کو پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر حفیظ الدین اور31 ملازمین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کونسل کو تحلیل کرنے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ مذکورہ درخواست پر عدالت نے صدر مملکت، کابینہ ڈویژن، وزارت قانون اور وزارت صحت کے سیکریٹریز، اٹارنی جنرل اور نو تشکیل شدہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے صدر کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کہ اپنا موقف بیان کرنے کا کوئی موقع دئیے بغیر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ملازمین کو برطرف کردیا گیا۔ ساتھ ہی اس میں ان خدشات کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن، برطرف کیے گئے ملازمین کی جگہ نئی بھرتیوں اور کنٹریکٹ بنیاد پر نوکریوں کا اشتہار دے سکتی ہے، جس سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ملازمین کی حق تلفی ہوگی۔ درخواست میں عدالت سے پی ایم سی کے قیام سے متعلق آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی اور پی ایم ڈی سی کے ملازمین کو نو تشکیل کردہ کمیشن میں ملازمت جاری رکھنے کی اجازت دینے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔
پی ایم ڈی سی ملازمین کی طرف سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی کو تحلیل کرنے کا صدارتی آرڈیننس کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پاکستان میڈیکل کمیشن کو ختم کرنےاور ملازمین کو بحال کرنے کا بھی مختصر حکم سنادیا جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ صدر عارف علوی نے 20 اکتوبر کو پاکستان میڈیکل کمیشن(پی ایم سی) آرڈیننس نافذ کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کردیا تھا۔ اس بارے میں وزارت برائے قومی صحت سروسز سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت نے ’پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019‘ نافذ کیا ہے جس کے نتیجے میں میڈیکل کے شعبے کے قوانین اور کنٹرول کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ’نئے آرڈیننس کے تحت میڈیکل کی تعلیم، تربیت اور طب اور دندان سازی میں قابلیت کے اعتراف کے لیے یکساں معیار قائم کیا جائے گا‘۔ بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’پی ایم سی ایک کارپوریٹ ادارہ ہوگا جو میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمک بورڈ، نیشنل میڈیکل اتھارٹی پر مشتمل ہوگا، نیشنل میڈیکل اتھارٹی کمیشن کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرے گا‘۔ حکومت نے پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس کی منظوری کے تناظر میں پاکستان کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل ڈاکٹروں کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن سے متعلق انتہائی اہم ریکارڈز، اور میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی حفاظت کے لیے فوری ایکشن لیا تھا۔ جس کے بعد وزارت برائے قومی صحت (این ایچ ایس) نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے پاکستان میڈیکل کونسل کی عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور کونسل کے 220 ملازمین کو ہدایت کی تھی کہ دفتر ایک ہفتے کے لیے بند رہے گا۔ علاوہ ازیں پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے نفاذ سے پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو غیرمعمولی اختیار تفویض ہوگئے تھے، جس کے تحت وہ اپنی مرضی سے فیس کا تعین کرسکتے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button