پہلی بیوی نے تیسری شادی کرنے والےکی درگت بنوادی

کراچی میں شہری کو تیسری شادی کرنا مہنگا پڑگیا اور پہلی بیوی اور اس کے اہلخانہ نے دلہا کی درگت بنا ڈالی جس کے بعد اسے زخمی حالت میں تیموریہ تھانے منتقل کردیا گیا۔
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں ہونے والی ایک ولیمے کی تقریب دلہے کےلیے اس وقت وبال جان بن گئی جب اس کی پہلی اہلیہ بچے سمیت وہاں پہنچ گئیں۔ خاتون کے وہاں پہنچنے پر دلہن کے گھر والے حیران رہ گئے اور معاملے پر بات کرنے کے لیے کمرے میں لے گئے، تاہم اس پورے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ دلہے کی پہلی اہلیہ تقریب میں چیخ پکار کرکے اس شادی کو روکنے کی کوشش کرتی ہے اور دلہن کے گھر والوں کو یہ بتاتی ہے کہ وہ آصف کی پہلی بیوی ہیں جب کہ اس نے ایک اور خاتون سے دوسری شادی بھی کی ہوئی ہے۔
آصف کی پہلی اہلیہ نے بتایا کہ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ تین دن کےلیے حیدرآباد جارہے ہیں جبکہ ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ بغیر اجازت تیسری شادی کررہا ہے۔ دلہے کی سابقہ شادیوں کے بارے میں معلوم ہونے پر دلہن کے عزیز جو آصف کو اس واقعے سے کچھ دیر قبل تک عزت دے رہے تھے انہوں نے سچائی سامنے آنے کے بعد دُلہا کی خوب پٹائی لگائی۔ ساتھ ہی واقعے کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس شادی ہال سے آکر دلہے کو حراست میں لے لیا۔
خیال رہے کہ مسلم فیملی آرڈیننس1961 کے تحت پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے والے کو قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ پولیس نے دونوں فریقین کو مذکورہ معاملے پر عدالت جانے کا مشورہ بھی دیا۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے معمول کی کارروائی کے بعد آصف کو واپس بھیج دیا جس کے بعد مشتعل ہجوم نے ایک مرتبہ پھر آصف کا پیچھا کیا جس کے بعد وہ جان بچانے کےلیے آصف بس کے نیچے چھپ گئے، تاہم پھر کچھ لوگوں نے انہیں اس سے بچایا۔
علاوہ ازیں تھانے کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے دُلہے کی دوسری اہلیہ نے بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس (آصف) کا سلوک اچھا نہیں تھا۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ آصف انہیں اکثر چھوڑنے اور دوبارہ شادی کرنےکی دھمکیاں دیتا تھا۔ تاہم دُلہے آصف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے تشدد کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے جب کہ یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ اپنی پہلی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button