پاکستان میں بسنے والے بنگالی بنیادی انسانی حقوق سے محروم

بنگلہ دیش کے قیام کے وقت وہاں سے پاکستانی بن کر ہجرت کرنے والے بنگالی پاکستان میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، پاکستان میں ان کو بنیادی حقوق میسر نہیں، نہ انہیں شناختی کارڈ جاری ہوتے ہیں نہ ہی کہیں نوکری ملتی ہے۔
سنہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی جانب سے آزادی کے اعلان اور بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد دیگر بنگالی اپنے گھروں کو چھوڑ کر کراچی منتقل ہو گئے لیکن پاکستان نے انہیں اپنا شہری تسلیم نہیں کیا۔ یہ بظاہر ان کی قومیت کےلیے کچھ بھی نہیں ہے تاہم ایک پیچیدہ تاریخ کا خمار ہے۔
پاکستانی بنگالی ایکشن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر زین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ابراہیم حیدری کراچی کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ’یہ ہماری تیسری نسل ہے جو پاکستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی ہے۔‘ زین کے بقول ’سب ٹھیک چل رہا تھا۔ ہم حکام کو رشوت کی مد میں تھوڑی سی رقم دے کر قومی شناختی کارڈ حاصل کر لیتے تھے۔ زندگی آسان تھی۔‘لیکن شدت پسندی اور دہشت گردی بڑھنے سے سب کچھ بدل چکا ہے۔ اب جعلی پاکستانی قومی شناختی کارڈ کا حصول تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ حکومت نے اپنے شہریوں کی ڈیٹا بیس رجسٹریشن کےلیے بے پناہ وسائل استعمال کیے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں رہنے والی بنگالیوں کے لیے قانون یا ضابطے سے بچنے کے تمام راستے اب بند ہو چکے ہیں۔
عمارہ یوسف اس کالونی میں واقع اپنے گھر میں ایک عارضی اسکول چلاتی ہیں۔ انہیں دو سال قبل انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد اپنی پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ انہیں شناختی کارڈ کے بغیر کسی کالج میں داخلہ نہیں مل سکتا۔ عمارہ کا کہنا ہے ’کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟ میں پاکستان میں پیدا ہوئی، میرے والدین یہاں پیدا ہوئے، وہ ہمیں شناختی کارڈز دینے سے انکار کیوں کر رہے ہیں اور ہمیں بنگالی کیوں بلاتے ہیں؟ مجھے اس حوالے سے بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ لیکن ہم بے بس ہیں اور اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔‘
کسی کو تعلیم تک رسائی نہ دینے کا مطلب اسے اس کے سب سے اہم بنیادی حق سے محروم کرنا ہے۔ عمارہ کو یقین ہے کہ پاکستان میں رہنے والے بنگالیوں کی قسمت میں لکھا ہے کہ وہ ہمیشہ غربت اور استحصال کی زندگی گزارتے رہیں۔
پاکستان میں ہر سال ہزاروں بنگالی بچے کالج چھوڑ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے درجنوں بچوں کو سبزی فروخت کرتے، چائے کے سٹالوں پر کام کرتے اور کریانے کی دکانوں پر کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔پاکستان میں کسی بھی شہری کے لیے شناختی کارڈ ایک بہت ضروری دستاویز ہے۔ آپ کو نوکری یا پڑھائی کے لیے شناختی کارڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ شادی کی رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ درکار ہوتا ہے۔ ووٹ ڈالنے، جائیداد خریدنے یا بیچنے کے علاوہ اندورن ملک سفر کے لیے بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں سے چند گلیوں دور نسیمہ اپنے گھر کے چھوٹے صحن میں قالین بنا رہی ہیں۔ ان کے گھر کے دوسرے کونے کے فرش پر ایک چھوٹا چولہا اور چند گندے برتن پڑے ہوئے ہیں۔
ایک دیوار کے قریب قالین بنانے کا ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم تعمیر کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم کی جگہ اتنی تنگ ہے کہ اس پر کوئی شخض آرام سے بیٹھ کر کام نہیں کر سکتا۔ میں پہلی نظر میں نسیمہ کو دیکھ نہیں پائی، اس کی جگہ ایک تیز چاقو اور چند انگلیاں اون میں چلتی دکھائی دیں۔ نسیمہ قالین بنانے کا کام بند کر کے میرے پاس بات کرنی آئیں۔
نسیمہ کا چہرہ تھکا ہوا لگتا ہے، وہ اپنی عمر سے زیادہ بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ انہیں قالین بنانے میں چار سے چھ ہفتے لگتے ہیں۔ انہیں ایک قالین بنانے کے لیے چھ ہزار پاکستانی روپے ملتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’میرا بھائی شناختی کاڈر کے بغیر نوکری حاصل نہں کر سکتا۔ میرے والد اپنی پینشن حاصل نہیں کر سکتے تو ہمارے پاس اور کیا آپشن ہے؟ ہم قالین بنا کر زندہ رہ رہے ہیں۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نسیمہ نے کہا ’میرے ہاتھوں کو دیکھیں، میری انگلیوں پر زخموں کے نشان واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اون میرے گوشت سے گزرتی ہے، سردیوں کے موسم میں میرے ہاتھوں میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘نسیمہ کے والد اور بھائی پولیس کی جانب سے روکے جانے کے خوف سے اس جگہ سے باہر نہیں جا سکتے۔ وہ شناختی کارڈ نہ ہونے سے بڑی مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔ان چھوٹے صعنتی یونٹس میں کام کرنے والے تمام افراد کو استحصال اور بدسلوکی کا خطرے ہے ۔
اسحوالے سے پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین اسد اقبال بٹ کا کہناہے کہ ایک عام ورکر 12 سے 12 ہزار پاکستانی روپے تنخواہ لے رہا ہے جبکہ ایک بنگالی ورکر اس کا نصف وصول کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’خواتین فیکٹریوں اور گھروں میں کام کرتی ہیں۔ انہیں نہ صرف کم اجرت دی جاتی ہے بلکہ انہیں ان کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی جاتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسا کچی آبادی کے باہر ہوتا ہے۔ بنگالی کراچی کی مچھلی کی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کمیونٹی ایکٹوسٹ زین العابدین کو یقین ہے کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ یہ لوگ پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں کیونکہ وہ سستے مزدور ہیں تاہم انھیں پاکستان کی شہریت دینے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ زین العابدین کے مطابق پاکستان میں رہنے والے بنگالی نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ان لوگوں کے مطابق ’یہ وہ ملک ہے جہاں ہمارے باپ دادا نے اپنی جان قربانی کی اور ہم نے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا۔‘اس کے بعد کیا ہوا؟ ایچ آر سی پی کے اسد بٹ اس کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والے بنگالیوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ بنگہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد نفرت کا شکار ہو گئے ہیں۔ کچھ الگ ہو چکے ہیں اور جو پیچھے بچے ہیں انھیں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور غدار سمجھا جاتا ہے۔
یہ فرق واضح طور پر بتاتا ہے کہ کسی بھی حکومت یا سیاسی جماعت نے ان لوگوں کی حمایت کرنے کی کوشش اس لیے نہیں کی کیونکہ یہ لوگ ان کے ووٹر نہیں ہیں۔ تاہم زین العابدین اپنی کوششیں ترک کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ہمیں یہاں سے جانے پر مجبور کرے اور ہم جائیں گے بھی نہیں، ہم یہاں ہی رہیں گے اور یہاں ہی مریں گے۔
