پاکستان میں سعودی سفارت کاروں کی نقل و حرکت محدود


وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک سعودی عرب مخالف بیان کے بعد سے اسلام آباد اور ریاض کے مابین تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے اور اب یہ خبریں آرہی ہیں کہ ملک میں موجود سعودی سفارت کاروں کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت کو محدود کرتے ہوئے اب انہیں بھی اسی پروٹوکول کو اپنانے کا بند کر دیا گیا ہے جو کہ دیگر ممالک کے سفارت کاروں کے لئے لاگو ہے۔
یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی نے کچھ ماہ پہلے سعودی عرب کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس نہ بلانے کے حوالے سے تنقید کی تھی جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات خرابی کی طرف گامزن ہیں۔ اس دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے سعودی عرب کا ایک دورہ بھی کیا تاکہ معاملات کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم حیرت انگیز طور پر اس دورے میں پاکستانی فوجی قیادت کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات نہ ہو پائی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کی خرابی کے بعد اب ایسی خبریں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے تشویش کا باعث ہیں کہ کہ سعودی حکام لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں نواز شریف نے اپوزیشن کے جلسوں سے خطاب میں اپنا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ آگے بڑھاتے ہوئے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود سعودی سفارت کاروں کی نقل و حرکت کو محدود نہیں کیا گیا بلکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ان سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت کے حوالے سے متعلقہ ایجنسیوں کو پیشگی آگاہ کریں۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کہ سفارتی حلقوں میں کئی مہینوں سے یہ بازگشت جاری ہے کہ پاکستان کے خارجہ تعلقات میں ایک ’پالیسی شفٹ‘ آئی ہے اور اب اسلام آباد کا جھکاؤ سعودی عرب کی نسبت ترکی کی جانب ہے۔ یہ بازگشت بھی جاری ہے کہ پاکستان اب سعودی عرب کے مقابلے میں ترکی کو فوقیت دے رہا ہے۔ اس تاثر کو ان خبروں اور ٹرینڈز نے ہوا دی ہے جو گذشتہ کچھ ہفتوں سے سوشل میڈیا کی زینت بنے رہے ہیں۔ اسی دوران ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس کے دن یہ خبر بھی آئی کہ سعودی عرب نے ووٹنگ کے عمل میں پاکستان کی مخالت کی ہے۔ جب اس ٹرینڈ نے زیادہ زور پکڑا اور بحث و مباحثے کا آغاز ہوا تو دفتر خارجہ کو بیان کے ذریعے وضاحت کرنی پڑی کہ سعودی عرب نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا لہذا مخالفت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا مطلب بھی پاکستان کی مخالفت ہی تھی۔
بعد ازاں کشمیر ڈے کے موقعے پر سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اس وقت سعودی عرب ٹرینڈ کرنے لگا جب یہ خبر آئی کہ ریاض میں پاکستان کے سفارتخانے کو کشمیر ڈے کے حوالے سے تقریب کے انعقاد سے منع کیا گیا ہے کیونکہ وہ بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ اب سعودی کرنسی کا معاملہ اٹھ گیا۔ سعودی عرب نے گذشتہ روز بیس ریال کا نیا کرنسی نوٹ جاری کیا جس میں ملک کی جی 20 کی صدارت کو نمایاں کیا گیا۔ اسی نوٹ کی دوسری جانب دنیا کا نقشہ چھاپہ گیا ہے جس نقشے میں کشمیر اور گلگت بلتستان کو انڈیا کا حصہ نہیں دکھایا گیا جس پر پاکستانی خوش تھے۔ مگر جلد ہی کئی انڈین نیوز چینلز اور سوشل میڈیا اکاونٹس نے یہ بتایا کہ نقشے میں ان علاقوں کو پاکستان کا حصہ بھی نہیں دکھایا گیا۔ یہ اقدام دونوں ہی ملکوں میں انڈیا کی کشمیر اور گلگت بلتستان کے معاملے پر ان کے سرکاری موقف کو ظاہر کرتا ہے۔
اسے سعودی عمل کو انڈین میڈیا پر تو سراہا گیا مگر پاکستان میں اس عمل کو زیادہ گرمجوشی کے ساتھ نہیں لیا گیا۔ مبصرین سمجھتے ہیں کہ پاک سعودی تعلقات میں بظاہر سردمہری کی وجہ پاکستان کے ترکی، ایران یا کسی دیگر ملک کے ساتھ تعلقات نہیں ہیں بلکہ وہ ’ایشوز‘ ہیں جن پر پاکستان کو سعودی حمایت کی توقع تھی۔ اس حوالے سے سابق سفیر اور خارجہ أمور کے ماہرین سے یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ آیا انقرہ کی جانب جھکاؤ کوئی منفرد چیز ہے یا خارجہ پالیسی میں ارتقائی پیش رفت ہے۔
سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد کے مطابق پاکستانی عوام پہلے سے ہی سعودی عرب کے بعض فیصلوں کے باعث اس کے خلاف ہیں، جیسا کہ کشمیر کے معاملے پر سعودیہ کا انڈیا کا ساتھ دینا یا پاکستان کے موقف کی اس طرح حمایت نہ کرنا جیسا کہ توقع تھی۔ دوسری جانب وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کی حمایت کے اشارے بھی پاکستانی عوام کا سعودی عرب پر اعتماد ختم کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ تجزیہ کار نسیم زہرہ کے مطابق ایسا نہیں کہ پاکستان نے ایک جھٹکے کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی لائی ہے بلکہ ملک کی پوری کوشش ہو گی کہ جو بنیادی تعلقات ہیں وہ ہرگز متاثر نہ ہوں اور جہاں تک فوجی تعلقات کی بات ہے تو ان میں فی الوقت کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی مستقبل قریب میں آئے گی۔
وہ سمجھتی ہیں کہ ترکی کے ساتھ تعلقات ایک قدرتی انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کا سعودی عرب کے ساتھ موجودہ تعلقات سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی کوئی تعلق ہونا چاہیے۔ ’پاکستان کے ترکی کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات۔۔۔ کی شاید مذہبی، تاریخی، ثقافتی، سیاحتی سمیت اور دیگر کئی وجوہات ہیں، اس لیے یہ ایک قدرتی بات ہے کہ ان تمام عوامل کی موجودگی میں ترکی کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں۔ یہ کہنا کہ ترکی کے ساتھ مضبوط تعلق کے باعث سعودی عرب کے ساتھ تعلقات خراب ہو رہے ہیں، غلط ہے۔‘
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات تبدیل ہو نے کی کئی وجوہات ہیں۔ انکے مطابق ہر ملک کے مفادات الگ ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کا حق بنتا ہے کہ وہ انڈیا کو یا خطے کے کسی بھی ملک کو ترجیح دے۔ یہی حق پاکستان کا بھی ہے۔ ان کے مطابق پہلی بار ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں کہ پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن استعمال کرتے ہوئے اپنی معیشت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ ایک سال کی بات نہیں، پاکستان کی گذشتہ کچھ سالوں سے یہ روش رہی ہے۔ اس میں افغانستان میں حالات میں بہتری اور خطے میں مجموعی طور پر تبدیلی اس کا باعث بنی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاک۔سعودی تعلقات میں تبدیلی اچانک نہیں ہوئی بلکہ اسکے لیے دباؤ گذشتہ کئی برسوں سے بڑھ رہا تھا۔ اس دباؤ کی کڑیاں 2002 سے جڑتی ہیں جب اس وقت کے انڈین وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ تب اقتصادی سفارتکاری کو استعمال کرتے ہوئے وہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان خصوصی تعلقات میں دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یہ بھی سچ ہے کہ سعودی عرب نے اس خطے کے معاملات کو پاکستان کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا اور یوں سعودی عرب اور انڈیا کے تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے جن میں پاکستان کے مفادات اور تعلقات کا ذکر تک نہیں تھا۔‘ پھر گذشتہ برس متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو دعوت دی جس کی وجہ سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ متحدہ عرب امارات نے انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا شاندار استقبال کیا اور پھر سعودی عرب نے بھی نریندر مودی کو اپنے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور اعلیٰ ترین اعزازات دے کر انڈیا اور سعودی عرب کے تعلقات کو بہت مضبوط بنائے جانے کا برملا اظہار کیا۔
اس کے بعد پاک سعودی تعلقات میں کشیدگی کا سبب اسلامی ممالک کی تنظیم یعنی او آئی سی کا رویہ بنا جب پاکستان کے مطالبے کے خلاف تنظیم نے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کرنے میں لیت و لعل کا مظاہرہ کیا۔ اور یہ کشیدگی اس وقت شدت کے ساتھ منظر عام پر آئی جب پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پانچ اگست کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے معاملے پر اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بحث کرنے کے لیے اجلاس نہ بلانے پر سعودی عرب کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ اسی بیان کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اعلان ہوا کہ اس نے پاکستان کو 2018 میں جو تین ارب ڈالر سے زیادہ قرضہ دیا تھا، پاکستان اُسے مقررہ وقت سے پہلے واپس کرے۔ اس ردعمل کے بعد تلخی اس قدر بڑھی کہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو سعودی عرب بات چیت کے لیے بھیجا گیا لیکن یہ دورہ اس لیے مکمل طور پر ناکام رہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ ملاقات نہ کی۔
تاہم کچھ تجزیہ نگار ایسے بھی ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ کہ پاکستان کے لیے ترکی اور سعودی عرب دونوں ہی بہت اہم ہیں اور کامیاب سفارتکاری کا کمال یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے دونوں ممالک سے اچھے تعلقات ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے لیے بھی پاکستان سے تعلقات اہم ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ چھوٹے چھوٹے معاملات کو بھی رائی کا پہاڑ بنا دیا جائے کہ ہمیں ریاض میں فلاں تقریب منعقد نہیں کرنے دی گئی وغیرہ۔ کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے یہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ہر ملک اپنے مفادات کی بنیاد پر سفارتی تعلقات میں قربت یا دوری اختیار کرتا ہے، اس معاملے میں پاکستانی عوام کی سوچ حقیقت پسندی کی بجائے جذبات پر مبنی ہے۔ حقیقت پسندی یہ ہے کہ ہر ملک اپنے مفاد کو دیکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے کشمیر کا مسئلہ نہایت اہم تھا اور اس پر سعودی عرب کا انڈیا کا ساتھ دینا شاید پاکستان کے لیے ناقابل یقین تھا۔ اور او آئی سی کے معاملے پر کشمیر کی حمایت میں پاکستان حق بجانب بھی تھا۔ اسی لیے اس معاملے پر ہماری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ناراض ہے۔
نسیم زہرا کے مطابق تعلقات کی نوعیت بدلنے میں کئی محرکات ہوتے ہیں۔ اس میں سعودی عرب کے اپنے انڈیا کے ساتھ تعلقات، یمن کا معاملہ، اور پھر خود پاکستان سے توقعات، یہ سب بہت سے فیکٹرز ہیں۔ ’ماضی میں نوازشریف کبھی سعودی عرب کو ناراض نہیں ہونے دیتے تھے۔ مگر اب عمران خان اور خاص طور پر پاکستان کی مسلح افواج بھی یہ سمجھتی ہیں کہ اب سب اپنے ہی گھر کے بہت قریب آچکا ہے جس میں ایران کی مخالفت ہو یا یمن کی جنگ، پاکستان کو ایک حد مقرر کرنے کی ضرورت تھی۔‘ اور شاید اسی پالیسی کے نتیجے میں اب سعودی عرب پاکستان سے دوری اختیار کر رہا ہے اور پاکستان ترکی کے قریب تر ہوتا چلا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button