دنیا کی سب سے چھوٹی کشتی تیار کر لی گئی

ہالینڈ کے سائنسدانوں نے الیکٹرون خردبین، تھری ڈی پرنٹنگ اور دوسری جدید ٹیکنالوجی سے دنیا کی سب سے چھوٹی کشتی تیار کی ہےجس کی جسامت صرف 30 مائیکرومیٹرہے اور یہ انسانی آنکھ سے بھی دکھائی نہیں دیتی۔
ہالینڈ کی لائڈن یونیورسٹی نے کشتی نما یہ شے ایک تحقیقی منصوبے کے تحت بنائی ہے جس میں ایسے مختصر روبوٹ بنانے تھے جو انسانی جسم یا خون کی رگوں میں دوڑ سکیں۔ ایسے روبوٹ کو بہت سے طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔لکڑی کی کشتی کا یہ انتہائی مختصر ماڈل تھری ڈی پرنٹر سے چھاپا گیا ہے جو ایسے پرنٹراور اس کی ٹیکنالوجی کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرِ طبیعیات کا کہنا ہے کہ اگر کسی مادی شے کے ایک قطرے میں لیزر پہنچائی جاسکتی ہے تو حسبِ ضرورت اشیا ڈھالنا آسان ہوتا ہے۔ یعنی اگر لیزر کو ڈی این کی شکل کی گھمایا جائے تو اس طرح آپ ڈی این اے ہی بنارہے ہوتے ہیں۔ اسی ٹیم نے لیزر اور تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے کئی خردبینی اشیا بنائی ہیں، ان میں خلائی جہاز، گیندیں، اور دیگر اشکال شامل ہیں۔ ماہرین چاہتے ہیں کہ جس طرح ہمارے جسم میں بیکٹیریا، الجی اور نطفے بھی تیرکر سفر کرتے ہیں اور اسی بنا پر ایسے خردبینی روبوٹ بھی تیر کر ایک سے دوسرے مقام پر جاسکتےہیں۔ ایسے روبوٹ جسم کے مطلوبہ مقام تک دوا پہنچاسکتے ہیں جو اس وقت طبی سائنس میں ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ فی الحال اس ایجاد کی بدولت بیکٹیریا کے نقل و حکم کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے.
