وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں، کون ہو گاIN اور کون ہو گا OUT؟

وفاقی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد کابینہ میں ردوبدل، نئی ذمہ داریوں کی تقسیم اور نوجوان چہروں کو آگے لانے پر مشاورت مکمل کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق کئی اہم وزارتوں کے قلمدان تبدیل ہونے، بعض وزرائے مملکت کو ترقی ملنے اور کمزور کارکردگی دکھانے والے وزرا کو ہٹانے پر سنجیدگی سے غور جاری ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں اہم فیصلوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیوں کی تیاریاں زور پکڑ گئی ہیں اور ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد نئے انتظامی فیصلوں پر مشاورت مکمل کر لی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئندہ چند روز میں کابینہ میں ردوبدل، نئی تقرریوں اور مختلف وزارتوں کی ذمہ داریوں میں تبدیلی کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے پاس وفاقی وزرا اور وزارتوں کی گزشتہ دو برسوں کی کارکردگی کی جامع رپورٹ موجود ہے، جس کی بنیاد پر بہتر نتائج دینے والے افراد کو مزید ذمہ داریاں سونپنے اور کمزور کارکردگی دکھانے والی وزارتوں میں اصلاحات لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی کو وفاقی وزیر کے عہدے پر ترقی دے کر وزارتِ تجارت کا قلمدان سونپنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ وزیرِ مملکت بیرسٹر عقیل ملک کو بھی وفاقی وزیر بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔اسی طرح نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری دیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ وہ نائب وزیراعظم کے منصب پر بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کو وزارت خارجہ اور رانا ثنا اللہ کو وزارت داخلہ کا قلمدان دینے کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں۔

وفاقی کابینہ میں نوجوان قیادت کو آگے لانے کی حکمت عملی بھی سامنے آ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار کا نام کابینہ میں شمولیت کے لیے زیر غور بتایا جا رہا ہے، جبکہ ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے بابر نواز کو وزیرِ مملکت بنانے کی تجویز پر بھی غور جاری ہے۔اسی طرح نوجوان رہنما اسامہ سرور کو وزیرِ مملکت برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر چند اراکینِ پارلیمنٹ کو بھی مختلف وزارتوں یا وزارتِ مملکت کی ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کے حجم کو محدود رکھنے اور قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ کم کرنے کے لیے بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ اس مقصد کے تحت بعض کم اہم وزارتوں سے وزرائے مملکت کو فارغ کرنے یا وزارتوں کی تنظیمِ نو پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ تجارت، وزارتِ صنعت و پیداوار اور وزارتِ آبی وسائل کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ خصوصاً برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے، چاول، آلو، پھلوں اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی خواہش ہے کہ کابینہ میں کارکردگی، اہلیت اور نتائج کو بنیادی معیار بنایا جائے تاکہ حکومتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے اور اقتصادی اہداف کے حصول میں تیزی لائی جا سکے۔ مبصرین کے بقول اگر مجوزہ تبدیلیوں کی منظوری دی جاتی ہے تو یہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد وفاقی کابینہ میں سب سے بڑی تنظیمِ نو تصور کی جا سکتی ہے، جس کا مقصد حکومتی کارکردگی بہتر بنانا، معاشی چیلنجز سے نمٹنا اور عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ایک زیادہ فعال ٹیم تشکیل دینا ہوگا۔

Back to top button