پاکستانی نوجوان کمبوڈیا کے سائبر فراڈ مافیا کے شکنجے میں کیسے پھنستے ہیں؟

بیرون ملک پرکشش تنخواہ، مفت رہائش، آئی ٹی کی نوکری اور روشن مستقبل کے خواب… لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ بھیانک نکلی۔ پاکستان کے سینکڑوں نوجوان مبینہ طور پر ایک ایسے بین الاقوامی سائبر فراڈ مافیا کے جال میں پھنس چکے ہیں، جو پہلے سوشل میڈیا اور آن لائن جاب پورٹلز کے ذریعے اعتماد حاصل کرتا ہے، پھر تھائی لینڈ، ملائیشیا یا سری لنکا کے راستے کمبوڈیا منتقل کر کے ان سے دنیا بھر کے شہریوں کے ساتھ اربوں روپے کے آن لائن فراڈ کرواتا ہے۔ اب ایف آئی اے کی تحقیقات میں گرفتار ایک پاکستانی خاتون کے سنسنی خیز انکشافات نے نہ صرف اس پورے نیٹ ورک کی ہولناک حقیقت آشکار کر دی ہے بلکہ پاکستان میں موجود بھرتی کرنے والوں، ٹریول ایجنٹس اور سہولت کاروں تک تحقیقات کا دائرہ بھی وسیع ہو گیا ہے۔
پاکستان کے نوجوانوں کو بیرون ملک آئی ٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کسٹمر سپورٹ اور آن لائن ملازمتوں کے دلکش وعدوں کے ذریعے ایک خطرناک بین الاقوامی سائبر فراڈ نیٹ ورک میں دھکیلنے کے انکشافات نے سکیورٹی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی حالیہ تحقیقات کے مطابق یہ منظم گروہ پہلے نوجوانوں کو تھائی لینڈ، ملائیشیا یا سری لنکا میں اعلیٰ تنخواہ والی ملازمت کا لالچ دیتا ہے، لیکن بعد میں انہیں کمبوڈیا، میانمار یا لاؤس میں قائم غیر قانونی کال سینٹرز اور سائبر فراڈ کمپاؤنڈز میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
اس نیٹ ورک کا ایک اہم راز اس وقت کھلا جب کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سری لنکا جانے والی ایک خاتون مسافر، فاطمہ، کو مشکوک سفری حالات کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ پہلے کمبوڈیا میں چینی شہریوں کے زیر انتظام ایک آن لائن اسکیمنگ نیٹ ورک میں کام کر چکی ہے، جہاں جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر ملکی شہریوں، خصوصاً مصری شہریوں، سے بڑے پیمانے پر مالی فراڈ کیا جاتا تھا۔
ایف آئی اے نے مقدمے کی مزید تحقیقات اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دی ہیں۔ تفتیش کا دائرہ صرف ملزمہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے پاکستانی رابطوں، بھرتی کرنے والوں، سہولت کاروں، بینک اکاؤنٹس، ڈیجیٹل والٹس، موبائل فونز، ٹیلیگرام گروپس، واٹس ایپ روابط اور بیرون ملک موجود نیٹ ورک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق فاطمہ نے بتایا کہ اسے بیرون ملک آئی ٹی ملازمت دلانے کے نام پر تقریباً دو لاکھ روپے وصول کیے گئے، جبکہ ویزا، ٹکٹ اور دیگر سفری انتظامات بھی اسی گروہ نے کیے۔ کمبوڈیا پہنچنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ اصل کام جعلی سرمایہ کاری ویب سائٹس کے ذریعے دنیا بھر کے شہریوں کو دھوکہ دینا ہے۔
تفتیش میں سامنے آیا کہ متاثرہ افراد سے پہلے سوشل میڈیا، ڈیٹنگ ایپس، ٹیلیگرام اور واٹس ایپ کے ذریعے دوستی یا کاروباری تعلق قائم کیا جاتا، پھر انہیں جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز پر رقم لگانے کے لیے آمادہ کیا جاتا۔ ابتدائی مرحلے میں معمولی منافع دکھا کر اعتماد حاصل کیا جاتا، لیکن جیسے ہی متاثرہ شخص بڑی رقم سرمایہ کاری کرتا، اس کا اکاؤنٹ بند کر کے تمام رقم ہڑپ کر لی جاتی۔ فاطمہ نے مزید انکشاف کیا کہ بعد میں اسے صرف کال سینٹر میں کام نہیں کرنا پڑا بلکہ ہیومن ریسورس کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں، جہاں اس نے متعدد پاکستانی نوجوانوں کو بھی اسی کمپنی میں بھرتی کرایا۔ ان نوجوانوں کو بتایا جاتا تھا کہ وہ کسی آئی ٹی کمپنی میں ملازمت کریں گے، لیکن بیرون ملک پہنچتے ہی ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے اور انہیں زبردستی سائبر فراڈ کرنے پر مجبور کیا جاتا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمہ دوبارہ سری لنکا جانے کی کوشش کر رہی تھی، جہاں اس کا ایک غیر ملکی ساتھی اسے اسی نوعیت کی نئی ملازمت دلوانے والا تھا۔ تفتیشی حکام اس شخص سمیت بیرون ملک موجود دیگر کرداروں کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ملزمہ کے موبائل فون کے فرانزک تجزیے میں جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز، ٹیلیگرام چیٹس، غیر ملکی نمبرز، آن لائن ادائیگیوں، بھرتی کے طریقہ کار اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کی مدد سے پاکستان میں موجود ممکنہ ریکروٹرز، ٹریول ایجنٹس اور سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران سیکڑوں پاکستانی نوجوان تھائی لینڈ، ملائیشیا، ویتنام اور دیگر ایشیائی ممالک میں آئی ٹی یا کال سینٹر کی ملازمت کے نام پر گئے، لیکن بعد میں انہیں کمبوڈیا، میانمار اور لاؤس منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں زبردستی سائبر فراڈ میں استعمال کیا گیا۔ متعدد متاثرین نے پاکستانی سفارت خانوں، ایف آئی اے اور اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے، موبائل فون محدود کر دیے گئے اور روزانہ کئی کئی گھنٹے آن لائن فراڈ کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
متاثرین کے مطابق اگر کوئی شخص مطلوبہ تعداد میں لوگوں کو دھوکہ نہ دے پاتا تو اسے تشدد، قید، خوراک کی کمی اور بھاری مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جبکہ بعض افراد کو رہائی کے لیے اپنے خاندانوں سے لاکھوں روپے منگوانے پڑے۔
خیال رہے کہ بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس بھی خبردار کر چکی ہیں کہ کمبوڈیا، میانمار اور لاؤس میں قائم منظم سائبر فراڈ کمپاؤنڈز میں دنیا بھر سے ہزاروں افراد کو ملازمت کے جھانسے میں لا کر اربوں ڈالر کی سالانہ دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ موجودہ کیس محض ایک خاتون کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان سے نوجوانوں کی غیر قانونی بھرتی، انسانی اسمگلنگ اور بین الاقوامی سائبر فراڈ کے ایک بڑے منظم نیٹ ورک سے جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے بینک ریکارڈ، مالی لین دین، کرپٹو ٹرانزیکشنز، ڈیجیٹل شواہد اور بین الاقوامی روابط کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔
تحقیقاتی حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کی کسی بھی پیشکش پر اندھا اعتماد نہ کریں، کمپنی، ورک پرمٹ، ویزا اور معاہدے کی مکمل تصدیق کریں اور کسی غیر رجسٹرڈ ایجنٹ یا سوشل میڈیا پر ملنے والے شخص کو رقم ادا کرنے سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق اگر موجودہ تحقیقات میں تمام شواہد کی تصدیق ہو گئی تو یہ مقدمہ پاکستان سے نوجوانوں کو بیرون ملک سائبر فراڈ نیٹ ورکس تک پہنچانے والے ایک بڑے بین الاقوامی گروہ کو بے نقاب کر سکتا ہے۔
