ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے بعد بلوچستان میں دہشت گردی تیز تر

حال ہی میں کوئٹہ کی ایک عدالت کی جانب سے بلوچ قوم پرست رہنما ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد سے بلوچستان میں ریاست مخالف دہشت گردی کی لہر تیز تر ہو گئی ہے اور سکیورٹی فورسز کو بڑے حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یکے بعد دیگرے حملوں، قومی شاہراہوں اور معاشی منصوبوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے نہ صرف ریاستی رٹ بلکہ صوبے میں امن و استحکام کے حوالے سے بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دفاعی مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان میں نافذ سکیورٹی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
حالیہ مہینوں میں ریاست مخالف تشدد کی نئی لہر کے بعد ملک کی سول اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے۔ کوئٹہ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ اور متفقہ فیصلہ کر لیا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

تاہم اسی دوران کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اُرک میں ایک مختلف منظر سامنے آیا، جہاں مقامی قبائلی عمائدین نے ایک مسلح گروہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے، جس نے متعدد شہریوں کو اغوا کر رکھا تھا۔ جرگے کی کوششوں سے مغویوں کو بازیاب کرا لیا گیا، جبکہ اس سارے عمل میں ضلعی انتظامیہ یا صوبائی حکومت کا کوئی نمایاں کردار دکھائی نہیں دیا۔ اغوا کاروں نے خود کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ قرار دیا، تاہم ان کی اصل شناخت اور محرکات کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں تحریک طالبان بھی بلوچ لبریشن آرمی کے ساتھ ہاتھ ملا چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سول اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے، لیکن بلوچستان میں ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

ایک جانب مختلف بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں پہلے سے زیادہ متحرک ہو چکی ہیں، جبکہ دوسری جانب کالعدم ٹی ٹی پی اور شدت پسند تنظیم داعش نے بھی صوبے میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ حال ہی میں بلوچستان کے علاقے مستونگ میں دو مسیحی کرکٹرز کے قتل جیسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے، جبکہ شہری علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیاں بھی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ریاست کی مجموعی سکیورٹی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ جب دہشت گردی کے واقعات میں عارضی کمی آتی ہے تو حکومت اسے کامیابی قرار دیتی ہے، لیکن جیسے ہی حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار بیرونی عناصر کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ محض چند ہفتوں یا ایک مہینے کے دوران حملوں میں کمی کو دہشت گردی کے خاتمے کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ شدت پسند تنظیمیں اپنی حکمت عملی کے تحت بعض اوقات وقتی طور پر سرگرمیاں محدود کر کے بعد ازاں زیادہ شدت کے ساتھ حملے کرتی ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اگرچہ مجموعی حملوں کی تعداد میں معمولی کمی آئی، تاہم 13 اضلاع میں پیش آنے والے 17 دہشت گرد حملے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسلح تنظیمیں اب بھی وسیع جغرافیائی علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ صرف جون کے مہینے میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی نے نو اضلاع میں حملے کیے۔
رپورٹ کے مطابق بی ایل اے اب نہ صرف منظم حملوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے بلکہ بلوچ قوم پرست اور شدت پسند رہنماؤں کی برسیوں کے موقع پر انتقامی کارروائیاں بھی اس کی حکمت عملی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ حالیہ دنوں خضدار میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر مجید بریگیڈ کے حملے کو بھی اسی سلسلے کی انتقامی کارروائی قرار دیا گیا، کیونکہ شفیق مینگل پر ماضی میں بلوچ شدت پسندوں کے خلاف سرگرم ایک مسلح گروہ کی قیادت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ یاد ریے کہ بی ایل اے نے پہلی مرتبہ قلعہ عبداللہ اور پشین جیسے سرحدی اضلاع میں اپنی سرگرمیاں بڑھائی ہیں، جہاں ماضی میں زیادہ تر ٹی ٹی پی کی کارروائیاں دیکھی جاتی تھیں۔

ان اضلاع میں پولیس چوکیوں پر حملے، اسلحہ قبضے میں لینے اور سکیورٹی تنصیبات کو تباہ کرنے جیسے واقعات نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ تنظیم اپنے روایتی علاقوں سے باہر بھی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی تنظیمی صلاحیت کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔ بکوچ شدت پسند تنظیموں کی جانب سے معاشی اہداف کو نشانہ بنانے کا رجحان بھی نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ پاکستان۔ایران شاہراہ پر گیس ٹینکروں کو نذر آتش کرنا، سرکاری آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی کو پانی فراہم کرنے والے ٹینکر ڈرائیور کو قتل کرنا، ایک اور ڈرائیور کو اغوا کرنا اور تعمیراتی ٹھیکیدار کو نشانہ بنانا ایسے اقدامات ہیں جن کا مقصد بلوچستان میں کاروباری سرگرمیوں کی لاگت بڑھانا اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اسی طرح قومی شاہراہوں پر دو پلوں کو دھماکوں سے تباہ کرنے اور ڈیرہ مراد جمالی میں 220 کے وی بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کو نشانہ بنانے جیسے حملوں نے نہ صرف نقل و حمل اور بجلی کی فراہمی کو متاثر کیا بلکہ عوام میں ریاست کی سکیورٹی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر میں افغانستان ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جون کے دوران بلوچستان کے اندر ڈرون حملوں کے بعد پاکستان نے پاک۔افغان سرحد کے قریب ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز، کمانڈ سینٹروں اور اسلحہ ڈپوؤں پر جوابی کارروائیاں کیں، جن میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ علاوہ ازیں 27 جون کو کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے پر پاکستان نے افغان حکومت کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ بھی ارسال کیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے کردار سے انکار ممکن نہیں، لیکن بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں موجودہ سکیورٹی چیلنجز کی تمام تر ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈالنا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ سکیورٹی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینے اور زمینی حقائق کے مطابق نئی حکمت عملی اختیار کیے بغیر بلوچستان میں امن کا قیام ایک بڑا چیلنج بنا رہے گا۔

Back to top button