کرپٹو کرنسی حرام یا حلال؟علما اور ماہرین آمنے سامنے کیوں؟

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی دائرے میں لانے کی حکومتی کوششوں کے درمیان ایک ایسا فتویٰ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف مذہبی حلقوں بلکہ مالیاتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف اسلامی اسکالر مفتی تقی عثمانی اور دارالعلوم کراچی کے دیگر علما نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کو شریعت کے منافی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی اسلامی اصولوں کے مطابق "مال” یا "دولت” کی تعریف پر پوری نہیں اترتی۔ دوسری جانب حکومت پاکستان جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے ورچوئل اثاثوں کے لیے باقاعدہ ریگولیٹری نظام تشکیل دے رہی ہے، جبکہ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ ترسیلات زر، ڈیجیٹل تجارت اور مستقبل کی معیشت کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ فتویٰ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے مستقبل کو متاثر کرے گا یا پھر علما، حکومت اور ماہرین کسی مشترکہ شرعی و قانونی فریم ورک تک پہنچ سکیں گے؟

پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی جانب پیش رفت کے ساتھ کرپٹو کرنسی ایک اہم موضوع بن چکی ہے، تاہم اس کی شرعی حیثیت پر اختلاف رائے ایک مرتبہ پھر نمایاں ہو گیا ہے۔ معروف اسلامی اسکالر مفتی تقی عثمانی اور دارالعلوم کراچی کے دیگر علما نے ایک مشترکہ فتوے میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریداری کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شریعت کے مطابق "مال” یا "ویلتھ” کی تعریف پر پوری نہیں اترتی۔ فتوے کے مطابق کرپٹو کرنسی کسی حقیقی اثاثے کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ محض ڈیجیٹل کھاتوں میں موجود اعداد و شمار پر مشتمل ایک نظام ہے، جسے اسلامی اصولوں کے مطابق مال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی بنیاد پر کرپٹو کے ذریعے خرید و فروخت کو بھی ناجائز قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ فتویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کو باقاعدہ قانونی دائرے میں لانے کے لیے سرگرم ہے۔ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے بعد حکومت کی کوشش ہے کہ کرپٹو سے متعلق سرمایہ کاری، تجارت اور لین دین کو ضابطہ کار کے تحت لایا جائے تاکہ مالیاتی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

فتوے کے بعد پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کی، جس میں بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثوں، سٹیبل کوائنز اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن سمیت مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے بجائے اس کا تکنیکی اور شرعی دونوں اعتبار سے تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ ایسی پالیسی تشکیل دی جا سکے جو اسلامی اصولوں اور جدید معیشت دونوں سے ہم آہنگ ہو۔

دوسری جانب معاشی ماہرین مفتی تقی عثمانی کے مؤقف سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ معروف ماہر معیشت یوسف نذر کے مطابق کرپٹو کرنسی کو دنیا بھر میں ڈالر، یورو، پاؤنڈ اور دیگر بڑی کرنسیوں میں باآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے، اس لیے اسے دولت یا اثاثہ نہ ماننا درست نہیں۔ ان کے بقول جس طرح سونا ایک قابلِ تجارت اثاثہ ہے، اسی طرح کرپٹو بھی عالمی سطح پر ایک قابلِ تبادلہ ڈیجیٹل اثاثہ بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں کرپٹو کرنسی ترسیلات زر کے نظام میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔ بینکنگ نظام کے ذریعے بیرون ملک سے رقوم کی منتقلی میں کئی دن لگ جاتے ہیں، جبکہ کرپٹو کے ذریعے یہی عمل چند گھنٹوں میں مکمل ہو سکتا ہے، جس سے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں اور رفتار بھی بڑھتی ہے۔

مالیاتی تجزیہ کار راشد مسعود عالم کے مطابق اگر حکومت کرپٹو کرنسی کو باقاعدہ ریگولیٹ کر رہی ہے تو پھر لاکھوں پاکستانی سرمایہ کاروں کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، کیونکہ ایک بڑی تعداد پہلے ہی غیر رسمی طور پر اس شعبے سے وابستہ ہے۔

ادھر کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک مذہبی معاشرہ ہے، جہاں مذہبی علما کے فتاویٰ عوامی رویوں پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ ان کے مطابق اس فتوے کے بعد بعض سرمایہ کار محتاط ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کرپٹو مارکیٹ میں سرگرمی وقتی طور پر متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔

دوسری طرف عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ کئی ممالک باقاعدہ قوانین اور نگرانی کے نظام کے تحت اس شعبے کو اپنی معیشت کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے بھی یہ چیلنج موجود ہے کہ وہ جدید مالیاتی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی اصولوں کے مطابق ایسا متوازن نظام تشکیل دے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد، مالی تحفظ اور شرعی تقاضوں، تینوں کو یکجا کر سکے۔ کرپٹو کرنسی پر جاری یہ بحث صرف ایک فتوے یا ایک نئی ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کی مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت، اسلامی مالیاتی نظام اور حکومتی ریگولیشن کے درمیان توازن قائم کرنے کا ایک اہم امتحان بن چکی ہے۔

Back to top button