پاکستان میں چھوٹی گاڑیاں کتنی سستی ہونے والی ہیں؟

پاکستان میں مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آ سکتی ہے۔ وفاقی حکومت 800 سی سی تک کی مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز پر غور کر رہی ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف سے بھی مشاورت جاری ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سوزوکی آلٹو سمیت چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے تک کمی ممکن ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ صرف سیلز ٹیکس کم کرنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ گاڑیوں کی قیمتوں پر درآمدی پرزوں، روپے کی قدر، پیداواری لاگت اور دیگر ٹیکسوں کا بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔ اب نظریں اگست میں متوقع نئی آٹو پالیسی اور آئی ایم ایف کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جو لاکھوں پاکستانیوں کے لیے گاڑی خریدنے کا خواب آسان بنا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں چھوٹی اور انٹری لیول گاڑیاں خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے امید کی ایک نئی کرن سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نئی آٹو پالیسی کے تحت 800 سی سی تک کی مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز پر غور کر رہی ہے، جبکہ اس سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت جاری ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ 18 فیصد سیلز ٹیکس کو کم کر کے 12.5 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر اس پر اتفاق ہو جاتا ہے تو سوزوکی آلٹو سمیت 800 اور 850 سی سی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جس سے متوسط طبقے کو براہ راست ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کو اگست 2026 تک حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ حکومت کا مقصد چھوٹی گاڑیوں کو عام شہری کی پہنچ میں لانا، مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینا، نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور گاڑیوں کی طلب میں اضافہ کرنا ہے۔

آٹو انڈسٹری کے تجزیہ کار مشہود خان کے مطابق اگر 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس مزید کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ جاتا ہے تو قیمتوں میں واضح کمی ممکن ہے، جس کا براہ راست فائدہ صارفین کو پہنچے گا۔ تاہم ان کے مطابق اس معاملے کا انحصار آئی ایم ایف کے مؤقف پر بھی ہے، کیونکہ عالمی مالیاتی ادارہ حکومت پر ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔

دوسری جانب آٹو سیکٹر کے ماہر فاروق پٹیل کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کی واحد وجہ سیلز ٹیکس نہیں بلکہ مجموعی پیداواری لاگت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق درآمدی پرزوں پر انحصار، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ، کسٹمز ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر مالی بوجھ گاڑیوں کو مہنگا بناتے ہیں۔ اس لیے صرف سیلز ٹیکس میں کمی وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے، لیکن مستقل حل کے لیے مقامی سطح پر آٹو پارٹس کی تیاری بڑھانا ناگزیر ہے۔

آٹو ماہر رانا ممتاز بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سیلز ٹیکس میں کمی کا فائدہ اصولی طور پر صارفین تک پہنچنا چاہیے، لیکن گاڑیوں کی حتمی قیمت کا تعین کئی عوامل کرتے ہیں، جن میں پیداواری لاگت، درآمدی اخراجات، روپے کی قدر اور کمپنیوں کے منافع کا مارجن بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹیکس میں نمایاں کمی کی جاتی ہے تو کمپنیاں قیمتوں پر نظرثانی کر سکتی ہیں، تاہم آٹو سیکٹر کی حقیقی بحالی کے لیے وسیع اصلاحات ناگزیر ہیں۔

ماہرین کے مطابق حکومت کو صرف ٹیکس ریلیف تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مقامی سطح پر آٹو پارٹس کی تیاری کو فروغ دینا، درآمدی انحصار کم کرنا، بین الاقوامی حفاظتی معیار اپنانا اور الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی نئی آٹو پالیسی کا حصہ ہونی چاہیے تاکہ صنعت کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف نے پہلے ہی بعض ٹیکس رعایتوں، خصوصاً الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر کم ٹیکس کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث حکومت کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل انتہائی محتاط انداز میں مذاکرات آگے بڑھا رہی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سیلز ٹیکس میں مجوزہ کمی منظور ہو جاتی ہے تو چھوٹی گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اگر یہ رعایت نہ ملی یا ٹیکس دوبارہ بڑھا دیا گیا تو مہنگائی اور کم قوتِ خرید کے باعث آٹو مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

اب تمام نظریں اگست میں متوقع نئی آٹو پالیسی اور آئی ایم ایف کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ اگر حکومت اپنی تجویز منظور کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو 800 اور 850 سی سی کی گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے تک کمی ممکن ہے، جو متوسط طبقے کے لیے گزشتہ کئی برسوں کا سب سے بڑا ریلیف ثابت ہو سکتی ہے۔

Back to top button