کراچی کی سڑکوں پر خونی ڈمپرز کا راج، ہر روز قیمتی جانیں نگلنے لگے

کراچی کی سڑکیں اب صرف ٹریفک کا راستہ نہیں رہیں بلکہ عام شہریوں کے لیے موت کا میدان بنتی جا رہی ہیں۔ پانی کے ٹینکرز اور تعمیراتی ڈمپرز کی بے قابو رفتار، ناقص نگرانی، مبینہ کرپشن اور انتظامی غفلت نے شہر کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جہاں ہر روز کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو رہے ہیں۔ ایک طرف شہری پانی کی قلت کے باعث انہی ٹینکرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، تو دوسری جانب یہی گاڑیاں معصوم جانوں کو روندتی چلی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کراچی میں خونی ڈمپرز اور ٹینکرز کے اس راج کو ختم کرنے میں ریاست کیوں ناکام دکھائی دے رہی ہے، اور کب تک شہری اپنی جانوں کی قیمت چکاتے رہیں گے؟

مبصرین کے مطابق کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی اور تجارتی شہر ہے، آج ایک ایسے سنگین مسئلے سے دوچار ہے جہاں پانی کے ٹینکرز اور تعمیراتی ڈمپرز شہریوں کے لیے خوف کی علامت بن چکے ہیں۔ شہر کی مصروف شاہراہوں پر تیز رفتاری سے دوڑتی یہ بھاری گاڑیاں آئے روز قیمتی جانیں نگل رہی ہیں، جبکہ شہریوں کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ کی کمزور نگرانی اور قانون پر عمل درآمد کی کمی نے اس مسئلے کو ایک مستقل بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

حال ہی میں پیش آنے والا ایک دلخراش واقعہ اس المیے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔ نارتھ ناظم آباد کے رہائشی ماجد اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر ڈنر کے لیے نکلے تھے، لیکن لیاقت آباد کے قریب ایک تیز رفتار ڈمپر نے ان کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ حادثے میں ان کی اہلیہ موقع پر جاں بحق ہوگئیں جبکہ ماجد اور ان کے بچے شدید صدمے سے دوچار ہوئے۔ اس سانحے نے ایک خوشحال خاندان کو ہمیشہ کے لیے غم میں مبتلا کر دیا۔

ماجد کے مطابق وہ صرف اپنے بچوں کی خوشی کے لیے گھر سے نکلے تھے، مگر چند لمحوں میں ان کی دنیا بدل گئی۔ ان کے کم سن بچے آج بھی اپنی والدہ کی واپسی کے منتظر ہیں اور اس سانحے کے نفسیاتی اثرات پورے خاندان پر نمایاں ہیں۔

ماہرین کے مطابق کراچی میں اس مسئلے کی ایک بنیادی وجہ پانی کا شدید بحران بھی ہے۔ شہر کو روزانہ تقریباً بارہ سو ملین گیلن پانی درکار ہوتا ہے، مگر فراہمی اس ضرورت سے کہیں کم ہے۔ یہی خلا واٹر ٹینکرز کو ناگزیر بنا دیتا ہے، جس کے باعث ہزاروں ٹینکرز روزانہ شہر کی سڑکوں پر رواں دواں رہتے ہیں۔ اسی طرح تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث ڈمپرز کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

امدادی اداروں اور ریسکیو ذرائع کے مطابق شہر میں روزانہ متعدد حادثات بھاری گاڑیوں کے باعث پیش آتے ہیں، جن میں بڑی تعداد موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کی ہوتی ہے۔ ان حادثات میں ہر سال سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ متعدد افراد مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بھاری گاڑیوں کے لیے مخصوص اوقات اور علیحدہ راستے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ عام ٹریفک محفوظ رہے، مگر کراچی میں صبح اور شام کے مصروف ترین اوقات میں بھی ڈمپرز اور ٹینکرز بلا روک ٹوک سڑکوں پر چلتے ہیں، جس سے حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ٹریفک کے امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کا دعویٰ ہے کہ بہت سی بھاری گاڑیاں ناقص فٹنس، غیر معیاری حالت اور بعض اوقات مطلوبہ لائسنس کے بغیر سڑکوں پر آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مؤثر نگرانی اور قانون پر سختی سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ٹینکر مالکان کا مؤقف ہے کہ وہ شہر کی بنیادی ضرورت پوری کر رہے ہیں اور حادثات کی تمام ذمہ داری صرف ان پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کی غیر محتاط ڈرائیونگ بھی کئی حادثات کا سبب بنتی ہے، جبکہ اگر حکومت بھاری گاڑیوں کے لیے علیحدہ روٹس فراہم کرے تو عام ٹریفک پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق ایسے حادثات صرف جانی نقصان تک محدود نہیں رہتے بلکہ متاثرہ خاندان برسوں ذہنی دباؤ، خوف اور نفسیاتی صدمے کا شکار رہتے ہیں۔ خصوصاً وہ بچے جو اپنی آنکھوں کے سامنے والدین یا قریبی عزیزوں کو کھو دیتے ہیں، ان میں طویل مدتی نفسیاتی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ بھاری گاڑیوں کے لیے رات کے اوقات میں نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے، فٹنس سرٹیفکیٹ اور ڈرائیوروں کے لائسنس کی سخت جانچ کی جائے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی ہو اور حادثات کے ذمہ دار افراد کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے مالکان کو بھی قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں پانی اور تعمیراتی سرگرمیوں کی ضرورت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن شہریوں کی جانوں کا تحفظ اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ جب تک مؤثر قانون سازی، سخت نگرانی اور مستقل اصلاحات نہیں کی جاتیں، شہر کی سڑکوں پر خوف، بے یقینی اور جان لیوا حادثات کا یہ سلسلہ رکنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button