اسلام آباد ہائی کورٹ میں مرضی کے 3 ججز لانے کی تیاری مکمل

ناپسندیدہ ججز سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد طاقتور حلقوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی پسند کے جج تعینات کرانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، اور 20 جولائی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی تین خالی سیٹوں پر ججز کی تقرری کے لیے حتمی فیصلوں کا امکان ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کا معاملہ نہ صرف عدلیہ بلکہ حکومت، قانونی برادری اور دیگر طاقتور حلقوں کے درمیان بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مختلف بااثر حلقے اپنی پسند کے امیدواروں کو ہائی کورٹ تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ اسلام آباد کی وکلا برادری بھی اس عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کو تین امیدواروں کے نام بھجوائے گئے ہیں۔ ان میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند، اسلام آباد کے سابق ایڈووکیٹ جنرل ایاز شوکت اور ایڈووکیٹ عمیر مجید ملک شامل ہیں۔ ان لوگوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی تین خالی نشستوں کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
ان نامزدگیوں سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت 19 جون کو جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججوں کی تقرری کے لیے نئے قواعد کی منظوری دی گئی تھی۔ انہی قواعد کے تحت چار جولائی تک نامزدگیاں طلب کی گئیں اور امیدواروں کی جانچ پڑتال کے لیے سات رکنی انٹرویو کمیٹی تشکیل دی گئی۔
دوسری جانب پاکستان بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل کے نمائندوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر سید واجد علی گیلانی کا نام بھی جج کے طور پر تجویز کیا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد بار کونسل نے وکیل واجد مغل کی سفارش کی، جبکہ جوڈیشل کمیشن کے رکن سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سید قمر حسین سبزواری اور سید انتخاب حسین شاہ کے نام پیش کیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی وکلا تنظیمیں مسلسل یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ وفاقی دارالحکومت کی ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے وکلا میں سے کی جائے، کیونکہ صوبائی ہائی کورٹس میں بھی زیادہ تر جج متعلقہ صوبوں کی قانونی برادری سے منتخب کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ ماہ مختلف بار ایسوسی ایشنز کے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے بھی یہی اصول اپنایا جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار کونسل کی رائے ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بھیجے گئے امیدواروں کو مقامی وکلا کی نمائندہ تنظیموں کی حمایت حاصل نہیں ہے، جس کی وجہ سے جوڈیشل کمیشن کے بعض ارکان بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کمیشن کے اندر بھی یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ اسلام آباد کی قانونی برادری میں مضبوط ساکھ رکھنے والے کسی امیدوار کو منتخب کیا جائے تاکہ وکلا کے تحفظات دور کیے جا سکیں اور مستقبل میں کسی ممکنہ محاذ آرائی سے بچا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے کو موجودہ سیاسی صورتحال سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پانچ اگست سے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، جو عمران خان کی سزا کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر شروع کی جائے گی۔ اس اتحاد کے مطالبات میں بلوچستان حکومت کا استعفیٰ، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور آزاد کشمیر کے انتخابات مؤخر کرنے سمیت متعدد سیاسی مطالبات شامل ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک کے دوران ملک بھر میں جلسے، مظاہرے، ریلیاں اور ہڑتالیں کی جائیں گی۔ ایسے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی شاہراہ پر واقع اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کردار انتہائی اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ اگر وکلا برادری ججوں کی تقرری کے عمل سے خود کو نظرانداز محسوس کرتی ہے تو وہ اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کا عملی حصہ بن سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کو خدشہ ہے کہ وکلا برادری کی حمایت حاصل ہونے کی صورت میں آئینی شاہراہ پر ایک دو ہزار وکلا کو جمع کرنا مشکل نہیں ہوگا، جس سے اپوزیشن کی احتجاجی مہم کو تقویت مل سکتی ہے۔ اسی امکان کے پیش نظر حکومت اور دیگر متعلقہ حلقے ایسے امیدوار کی تقرری پر غور کر رہے ہیں جو مقامی بار ایسوسی ایشنز کے لیے بھی قابل قبول ہو، تاکہ وفاقی دارالحکومت کی قانونی برادری کے تحفظات کم کیے جا سکیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی خالی نشستوں کے امیدواروں کے انٹرویوز 13 جولائی کو سات رکنی کمیٹی کے سامنے ہوں گے۔ اس کمیٹی کی سربراہی وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس سید حسن اظہر رضوی کریں گے، جبکہ اس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ محمد سرفراز ڈوگر، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر سید علی ظفر اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندے محمد احسن بھون بھی شامل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق انٹرویوز کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان 20 سے 23 جولائی کے درمیان مختلف اجلاس منعقد کرے گا، جن میں اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرریوں کی منظوری دی جائے گی۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کی تین نشستوں پر ہونے والے فیصلے کو عدالتی، قانونی اور سیاسی حلقے غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ ان تقرریوں کے اثرات مستقبل کی عدالتی اور سیاسی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
