فائبر آپٹک ڈرونز، جدید جنگ کا نیا اور خطرناک ہتھیار کیسے بنے؟

جنگی ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے اور میدانِ جنگ میں برتری اب صرف طاقتور ہتھیاروں یا بڑی افواج سے نہیں بلکہ جدید اور کم لاگت ٹیکنالوجی سے بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ فائبر آپٹک ڈرونز اسی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہیں، جنہوں نے یوکرین سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک عسکری حکمت عملی، دفاعی نظام اور جنگی منصوبہ بندی کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈرونز روایتی ریڈیو سگنل پر چلنے والے ڈرونز کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، زیادہ مؤثر اور الیکٹرانک جنگی نظام سے بڑی حد تک محفوظ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں جدید جنگ کا "گیم چینجر” قرار دیا جا رہا ہے۔

فائبر آپٹک ڈرونز نے حالیہ برسوں میں جدید جنگ کی نوعیت کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ یوکرین اور روس کی جنگ سے لے کر جنوبی لبنان تک ان ڈرونز کے استعمال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں صرف روایتی ہتھیار ہی فیصلہ کن نہیں ہوں گے بلکہ جدید، کم لاگت اور ذہین ٹیکنالوجی بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

روایتی فرسٹ پرسن ویو (ایف پی وی) ڈرونز عام طور پر ریڈیو سگنلز کے ذریعے اپنے آپریٹر سے رابطے میں رہتے ہیں، جنہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس فائبر آپٹک ڈرون ایک باریک فائبر کیبل کے ذریعے اپنے آپریٹر سے منسلک رہتے ہیں، جس کے ذریعے کنٹرول سگنلز اور ہائی ڈیفینیشن ویڈیو براہِ راست منتقل ہوتی ہے۔ چونکہ ان کا انحصار ریڈیو سگنلز پر نہیں ہوتا، اس لیے انہیں روایتی الیکٹرانک جیمنگ سے روکنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہی خصوصیت انہیں جدید جنگ میں غیر معمولی برتری فراہم کرتی ہے۔ یہ ڈرون انتہائی کم بلندی پر، نسبتاً خاموشی سے اور تیز رفتاری کے ساتھ پرواز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بروقت تلاش کرنا یا نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض جدید ماڈلز پچاس کلومیٹر تک فائبر کیبل اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں، جس سے ان کی عملی صلاحیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

یوکرین کی جنگ میں ان ڈرونز نے اپنی افادیت ثابت کی، جہاں دونوں فریق انہیں گھات لگا کر حملوں، فوجیوں، ہلکی بکتر بند گاڑیوں اور دفاعی مورچوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فائبر آپٹک ڈرون کئی گھنٹوں تک کم توانائی پر انتظار کر سکتے ہیں اور جیسے ہی ہدف سامنے آئے، چند سیکنڈ میں حملہ کر دیتے ہیں۔

جنوبی لبنان میں بھی ایسے ڈرونز کے استعمال نے اسرائیلی فوج کے لیے نئے خطرات پیدا کیے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ان ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی فوجی تنصیبات اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اسرائیلی دفاعی اداروں نے ان کے خلاف نئے دفاعی نظام تیار کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ان ڈرونز کی ایک اور نمایاں خصوصیت ان کی غیر معمولی نقل و حرکت ہے۔ یہ سرنگوں، خندقوں، عمارتوں اور بنکروں کے اندر داخل ہو کر ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں جہاں روایتی ڈرون یا میزائل آسانی سے نہیں پہنچ سکتے۔ یہی صلاحیت انہیں شہری اور قریبی جنگی ماحول میں زیادہ مؤثر بناتی ہے۔

تاہم اس جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ فائبر کیبلز جنگی علاقوں میں بکھر کر ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں اور جنگلی حیات کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ کیبلز جانوروں اور پرندوں کے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب دنیا کی بڑی عسکری طاقتیں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے نئے دفاعی نظام تیار کر رہی ہیں۔ برطانیہ اور نیٹو نے فائبر آپٹک ڈرونز کا بروقت سراغ لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت، جدید ریڈار، خودکار دفاعی نظام اور نئی ٹیکنالوجیز پر تحقیق شروع کر دی ہے، جبکہ اسرائیل بھی فوری دفاعی حل تلاش کرنے میں مصروف ہے۔

عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل کی جنگیں زیادہ تر ڈرونز، مصنوعی ذہانت، خودکار ہتھیاروں اور الیکٹرانک جنگی نظاموں کے گرد گھومیں گی۔ فائبر آپٹک ڈرونز اسی بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کی واضح مثال ہیں، جنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید جنگ میں رفتار، درستگی، کم لاگت اور ٹیکنالوجی روایتی عسکری برتری سے کہیں زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے۔

Back to top button