پاکستان کا جون 2022 تک FATF میں رہنے کا امکان

پاکستان کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اس مرتبہ بھی اس کے لئے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا تین روزہ اجلاس 19 سے 21 اکتوبر تک منعقد ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک کی نگرانی کرنے والا ادارہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کو مزید چار ماہ کے لیے نگرانی کی گرے لسٹ میں ہی رکھے گا اور پاکستان کے اسٹیٹس میں تبدیلی کا فیصلہ اب آئندہ سیشن کے دوران ہو گا جو اپریل 2022 میں منعقد ہونا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر ایف اے ٹی ایف کے معیار پر مکمل طور پر پورا نہیں اتر پایا ہے۔ ساتھ ہی ایف اے ٹی ایف کی طرف سے کچھ سنجیدہ طرز کے مسائل کی نشاندہی کی طرف بھی اشارہ کیا جائے گا کہ پاکستان کو اب بھی دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف حکومت پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے جب مطمئن ہو گی تو ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق اور قانون سازی کا جائزہ لے گی۔ جس کے بعد ہی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکاتی ایکشن پلان پر اب تک 26 نکات پر عمل کیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان کو تمام پوائنٹس پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔ پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ اس نشست کے دوران پاکستان کی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے شعبوں میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہو گا کہ آیا پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھا جائے یا نہیں؟
اس وقت دنیا کو یہ یقین دلانا بہت مشکل ہے کہ پاکستان میں پابندی کا شکار تنظیمیں اور افراد کے خلاف کار روائی ہو رہی ہے خصوصاً جب وزیراعظم عمران خان افغان طالبان کے وکیل بنے ہوئے ہیں اور تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے جون کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے دو ایکشن پلان دیے گئے تھے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ایکش پلان پر مکمل عمل درآمد ہو۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسیفک گروپ کی میوچل ایوالیویشن جیسی دوہری نگرانی کا سامنا ہے اور پاکستان دونوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے پہلے ایکشن پلان کا ہدف دہشت گردوں کی مالی اعانت کو روکنا تھا جب کہ نئے دیے گئے ایکشن پلان میں توجہ منی لانڈرنگ کے تدارک پر ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ نے جون کے مہینے میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان پر زور دیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے دیے گئے دونوں ایکش پلان پر جلد از جلد عمل در آمد کیا جائے۔ اس ایکشن پلان کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف چاہتا ہے کہ پاکستان ثابت کرے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے کیسز میں تحقیقات اور سزاؤں میں شفافیت ہے اور حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد دہشت گرد گروہوں اور افراد کے خلاف کار روائی کرے۔
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جون میں کہا تھا کہ یہ تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے یا سیاسی؟ اور دیکھنا ہو گا کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟
خیال رہے کہ پاکستان نے نے اقوام متحدہ کے نامزد کردہ ایسے افراد کے خلاف قانون سازی بھی کر رکھی ہے اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سمیت ایسے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں اس حوالے سے اسمبلی میں درجن کے قریب قوانین بھی منظور کیے ہیں اور متعدد اقدامات بھی کیے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی فنانسنگ کے خلاف کافی اقدامات کیے ہیں جس کے لیے وہ پاکستانی حکام کے شکر گزار ہیں۔ تاہم منی لانڈرنگ اب بھی ہو رہی ہے اور پاکستان کو اس کی تحقیقات کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ جون کے مہینے کے رپورٹ میں انسداد دہشت گردی کے ایکشن پلان کے ایک نکتے کے علاوہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے ذیلی ادارے ایشیا پیسیفک گروپ کے باہمی جائزے میں بھی 40 سفارشات پر عمل کرنا تھا جس میں زیادہ تر کا تعلق منی لانڈرنگ سے تھا۔
اس حوالے سے پاکستان کو چھ نکاتی نیا ایکشن پلان دیا گیا تھا۔ اس پلان کے مطابق پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی خامیوں کو دور کرنا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں سے نکلنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کے 22 اراکین میں سے کم از کم 12 ووٹ درکار ہوں گے جو ایک مشکل کام نظر آتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف عمومی طور پر انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور ان کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ جن ممالک کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں تو ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اگرچہ ایف اے ٹی ایف خود کسی ملک پر پابندیاں عائد نہیں کرتا مگر ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے ممالک کی نگرانی کے لیے لسٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے جنہیں گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کہا جاتا ہے۔ بلیک لسٹ میں ان ہائی رسک ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جن کے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور قواعد میں سقم موجود ہو۔ ان ممالک کے حوالے سے قوی امکان ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک ان پر پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔ گرے لسٹ میں ان ممالک کو ڈالا جاتا ہے جن کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں اور وہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر ان قانونی خامیوں کو دور کرنے کا اعادہ کریں۔
