پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ سے نکالنے کی گھڑی آ گئی

ایف اے ٹی ایف کی آن سائٹ انسپکشن ٹیم پاکستان کو اپنی گرے لسٹ سے نکالنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان آ رہی ہے تاکہ عائد کردہ شرائط کے مطابق پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے حکومتی اقدامات کا جائزہ لیکر انکی تصدیق کی جا سکے۔ ستمبر میں پاکستان کا دورہ کرنے کے بعد ایف اے ٹی ایف کی آن سائٹ انسپکشن ٹیم اکتوبر میں ہونے والی میٹنگ میں متعلقہ حکام کو حتمی فیصلے بارے آگاہ کرے گی تاکہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فائنل فیصلہ کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ اس برس جون میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے چار سال بعد پاکستان کو اپنی گرے لسٹ سے نکالنے کا عندیہ دیا تھا۔ برلن میں منعقد ہونے والے اجلاس نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان نے اس کی تمام شرائط پوری کردی ہیں اور ان تمام شعبوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے جن کی وجہ سے پاکستان کو ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے شبہ میں 2018 سے گرے لسٹ پر رکھا گیا تھا۔ تب سے اب تک تک پاکستان اپنی پوزیشن پوری طرح واضح کروانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ برلن میں ہونے والے اجلاس میں اگرچہ یہ اقرار کیا گیا کہ پاکستان نے تمام نکات پر عمل درآمد کیا ہے لیکن یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ٹیم ستمبر مین پاکستان کا دورہ کر کے تمام اقدامات کا بچشم خود مشاہدہ کرے گی۔ اس ٹیم کی رپورٹ کے بعد ایف اے ٹی ایف کا اجلاس پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا حتمی اعلان کرے گا۔ اب ایف اے ٹی ایف کی ٹیم ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان پہنچ رہی ہیں تاکہ جائزہ لیکر حتمی فیصلہ کر سکے۔
دوسری جانب سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال بھی دیا جاتا ہے تو بھی اس پر تلوار لٹکتی رہے گی لہازا حکومت پاکستان کو کوشش کرنا پڑے گی کہ ملک میں ایسے حالات پیدا نہ ہوں کہ پاکستان کو ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف جیسے ادارے کی نگرانی میں لایا جائے اور اس کے نظام پر شبہات ظاہر ہوں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی دو مرتبہ پاکستان مختلف قسم کے وعدے کر کے اور قانون سازی کے ذریعے ہی گرے لسٹ سے نکلا تھا لیکن چند برس بعد دوبارہ اس میں شامل ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی کی حکومتیں عالمی سطح پر کیے جانے والے وعدوں پر پوری طرح عمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے چند برس بعد ہی دوسری اور پھر تیسری بار پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا تھا۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی قریب میں اسٹیبلشمنٹ نے عسکریت پسندوں کے حوالے سے جو فرینڈلی پالیسی اپنا رکھی تھی اب اس میں اب واضح تبدیلی آ چکی ہے کیوں کہ فوجی قیادت بھی سمجھتی ہے کہ وقت بدل چکا ہے اور پالیسیاں بھی تبدیل کرنا ہوں گی۔
یاد رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا قیام دراصل دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں کی روک تھام اور ان کے لئے وسائل کی فراہمی ناممکن بنانے کے لئے عمل میں آیا تھا۔ ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اگر بار بار اس گروپ سے چند وعدے اور اقدامات کرنے کے بعد پھر سے اسی قسم کی بے اعتدالی کا شکار ہو گا تو اسے زیادہ مشکل اور سخت عالمی رد عمل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ خود داری و خود مختاری کے تمام دعوؤں کے باوجود پاکستان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ دنیا اس وقت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے جہاں چین جیسا طاقت ور اور مالدار ملک بھی عالمی نظام سے براہ راست ’بغاوت‘ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسلئے پاکستان کو بھی احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے جب ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملات دفتر خارجہ دیکھ رہا ہے تاہم ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کےآئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔ معلوم ہوا یے کہ ایف اے ٹی ایف کی آن سائٹ انسپکشن ٹیم اپنے دورہ پاکستان میں تمام وزارتوں، متعلقہ محکموں، ریگولیٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انتظامات کا جائزہ لے گی تاکہ تصدیق کی جا سکے کہ آیا منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے اقدامات مستقل بنیادوں پر کیے گے ہیں یا نہیں۔ اگر ایف اے ٹی ایف ٹیم کے سائٹ وزٹ کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے تو اکتوبر 2022 کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کو حتمی طور پر گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔
