پاک افغان تجارت کے لیے بھولا بسرا راستہ کھل گیا

پاکستان نے پڑوسی ملک افغانستان سے باہمی تجارت کے فروغ کےلیے نو سال سے غیر فعال تجارتی ٹرین سروس گڈز ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان (گیتا)کو بحال کردیا جس کے تحت پہلی کارگو ٹرین ازاخیل ڈرائی پورٹ افغانستان پہنچ چکی ہے۔ سروس کی بحالی سے ریلوے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافے کی توقع ہے۔ اس ٹرین کے ذریعے دونوں ممالک کی سڑکوں پر رش کم ہوگا، ٹورازم کو فروغ ملے گا اور اسمگلنگ کی روک تھام کا باعث ہوگا۔
کراچی بندرگاہ سے براستہ چمن اور ازاخیل افغانستان تک مال پہنچانے کے اس منصوبے کو اس سال ریلویز کی بہت بڑی اقتصادی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ جس سے ریلوے حکام کے مطابق نہ صرف اس محکمے کی اقتصادی پیداوار میں بہتری آئے گی بلکہ سڑکوں پر رش میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ سامان کی بحفاظت منتقلی بھی ہوگی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کےلیے 1965 میں ہونے والے تجارتی معاہدے کے تحت چلائی جانے والی ’گیتا‘ ٹرین نو سال بعد دوبارہ بحال کیا گیا ہے ۔
ٹرانزٹ ٹرین کی دوبارہ بحالی ایسے حالات میں ممکن ہوئی ہے جہاں ایک طرف پاکستان افغانستان کے درمیان سرحدوں پر باڑ لگا کر اسمگلنگ اور دوسرے جرائم کی روک تھام کی کوششیں ہو رہی ہیں تو دوسری جانب ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنا کر اس سے آمدن پیداکرنے کا ارادہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ جس کے نتیجے میں ماہ فروری کی 22 تاریخ کو ٹرانزٹ ٹرین جس کو عرف عام میں گیتا (گڈز ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان) کہا جاتا ہے، کو دوبارہ چلانے کا افتتاح کیا گیا۔
محکمہ ریلوے پشاور دفتر کے ڈویژن ٹرانسپورٹ آفیسر طاہر مروت نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ فی الحال یہ ٹرین کراچی سے چمن اور ازاخیل تک ہی جائے گی لیکن مستقبل میں اس ٹریک کو ازاخیل سے جلال آباد اور چمن سے سپین بولدک تک پھیلانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ گیتا ٹرین کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق: ’اس سے پہلے سارا فائدہ ٹرک مالکان اور کمپنیوں کو ہوتا تھا لیکن اب وہ پیسہ پاکستان ریلویز کے اکاؤنٹ میں جائے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ گیتا ٹرین چلانے کا معاہدہ 1965 میں ہوا تھا لیکن بیچ میں یہ مختلف مسائل کا شکار رہا اور بلآخر 2011 میں اس کارگو ٹرین کو بند کر دیا گیا۔
1893 میں ڈیورنڈ لائن کی لکیر کھینچنے سے بھارت اور افغانستان کی سرحدوں کی باقاعدہ طور پر حد بندی کی گئی۔ اس زمانے میں افغانستان کی تمام تر بیرونی تجارت کلکتہ، بمبئی اور کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے ہوا کرتی تھی۔ یہ ٹرانزٹ سہولت حکومت برطانیہ نے افغانستان کو ’فارورڈ پالیسی‘کے تحت فراہم کی تھی، تاکہ مملکت افغانستان اقتصادی لحاظ سے روس کی محتاج نہ ہو۔
1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد افغانستان بدستور بذریعہ پاکستان اپنے تجارتی تعلقات قائم کیے ہوئے تھا۔ تاہم کئی بار دونوں ممالک کے درمیان خراب سکیورٹی صورت حال کی وجہ سے ٹرانزٹ پر گہرا اثر پڑا۔ پھر بھی کسی نہ کسی طور یہ ٹرانزٹ ٹریڈ جاری رہی۔
1965 میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے قواعد و ضوابط لکھے گئے جس سے نہ صرف غیر ملکی بلکہ پاکستان اور افغانستان کے تجارت پیشہ لوگوں نے بھی خوب فائدہ اٹھایا اور پشاور سے لے کراچی، اور کوئٹہ سے لے کر قندھار، کابل اور جلال آباد تک لوگ اس سے مستفید ہوتے رہے۔
اسی دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ تاجر پیشہ لوگ کسٹم ڈیوٹی بچانے کی خاطر ٹرانزٹ کے نام سے کروڑوں روپے مالیت کے سامان کی افغانستان کے نام پر بکنگ کرواتے ہیں اور جیسے ہی یہ مال قبائلی علاقوں (سابقہ فاٹا) میں پہنچتا ہے، کنٹنیرز کے تالے توڑ کر ادھر ہی خالی کروا دیے جاتے ہیں۔ جس کے بعد خالی کنٹنیرز کو رسماً افغانستان کے حدود میں داخل کروا کر کسٹم ڈیوٹی (گمرک) کی ادائیگی کر دی جاتی تھی۔
یہ اسمگل شدہ سامان، جس میں زیادہ تر ٹیکسٹائل اور الیکٹرونک کا سامان ہوتا تھا، مشہور پاکستانی مارکیٹوں میں فروخت کیا جاتا تھا۔ افغانستان میں خانہ جنگی کے دوران ایک لمبا عرصہ اس غیر قانونی اسمگلنگ کو فروغ دیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ روس سے لیا گیا اسلحہ اور اس کے بعد نیٹو کا اسلحہ اور گولہ بارود اسمگل کیا جانے لگا۔ جو اکثر طالبان اور دوسرے جنگجو گروہوں کے ہاتھ بھی لگتا رہا۔
اس تمام اسمگلنگ کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کو شدید اقتصادی نقصان پہنچا بلکہ نیٹو کا سامان بھی دوبارہ غیر قانونی راستوں سے پاکستان آنے لگا جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہوئی۔
بالآخر پاکستان فوج کی مدد سے سرحد پر واقع تمام غیر ضروری راستوں کو خاردار تار کے ذریعے کامیابی سے بند کر دیا گیا اور چور دروازوں کو مکمل سیل کر دیا گیا۔ موجودہ وقت میں صرف چمن، غلام خان، انگور اڈہ اور طورخم کے راستے آمدورفت کےلیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ ان میں سے صرف دو راستوں پر ٹرین کا سلسلہ بارڈر تک پہنچتا ہے۔ جس میں کوئٹہ سے چمن اور پشاور سے لنڈی کوتل تک 1947 سے پہلے کی ریلوے لائن بچھی ہوئی ہے۔
اس ٹرین کے ذریعے دونوں ممالک کی سڑکوں پر رش کم ہوگا، ٹورازم کو فروغ ملے گا۔ افغانستان نے اپنے آپ کو خود کفیل کرنے کےلیے پاکستان کے علاوہ تجارت کےلیے ایک اور راستہ بھی اختیار کرلیا ہے جو کہ نیمروز صوبے سے گزر کر چابہار بندرگاہ تک پہنچتا ہے۔ یہ دوطرفہ مال بردار سڑک ہندوستان کی مدد سے تعمیر کی گئی ہے تاہم چابہار کی بندرگاہ پھر بھی افغانستان کی تمام تجارتی ضروریات پورا نہیں کرسکتی۔ سی پیک منصوبے سے فائدہ اٹھانے کےلیے انہیں پھر بھی پاکستان کی ضرورت پڑے گی۔
