پاک چین CPEC منصوبے کی آڑ میں شراب کا کاروبار

پاک چین راہداری منصوبے سے وابستہ چینی انجینئرز کی شراب کی ضروریات پوری کرنے کی آڑ میں ایک چینی کمپنی نے تین ارب روپے کی سرمایہ کاری سے شراب بنانے کا بڑا کارخانہ حب کے علاقے میں قائم کر لیا ہے جس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ کراچی سے متصل بلوچستان کے صنعتی علاقے حب میں ایک چینی کمپنی کی جانب سے قائم کردہ شراب بنانے والا کارخانہ نہ صرف مکمل ہو گیا ہے بلکہ فعال بھی ہو چکا ہے۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے حکام کا دعویٰ ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے یعنی سی پیک کے باعث چینی شہریوں کی بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے اسلیے یہ کارخانہ ان کی شراب کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی یہ کارخانہ صرف اندرون ملک ہی شراب بنا کر بیچے گا اور بیرون ملک شراب برآمد نہیں کرے گا۔ حکام کے مطابق اس کارخانے سے وفاقی حکومت اور بلوچستان دونوں کو ٹیکس کی مد میں آمدنی ہو گی جبکہ مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔ تاہم اس فیصلے پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے بھی ایک اسلامی ملک میں شراب کا کارخانہ لگانے کی اجازت دینے کی مذمت کی ہے۔

ہوئی کوسٹل بریوری اینڈ ڈسٹلری لمیٹڈ کے نام سے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں اپریل 2020 میں رجسٹرڈ ہونے والی چینی کمپنی کی جانب سے حب میں قائم کیا جانے والا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا کارخانہ ہے ۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں نہ صرف شراب بڑی مقدار میں بیرون ملک سے سمگل ہو کر آتی ہے بلکہ حب ہی کے علاقے میں کوئٹہ ڈسٹلری لمیٹڈ کے نام سے شراب کا ایک اور کارخانہ بھی قائم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شراب کے استعمال اور کاروبار کا لائسنس صرف اقلیتوں کو جاری کیا جاتا ہے۔ لیکن پہلے ہی اقلیتوں کی محدود آبادی کے لیے ایک کارخانے کی موجودگی میں دوسرے کارخانے کے قیام کی ضرورت سے متعلق سوال پر صوبائی ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ساؤتھ محمد زمان کا کہنا تھا کہ شراب بنانے والے اس کارخانے کا مقصد چینی شہریوں کے لیے ان کے معیار اور تقاضوں کے مطابق شراب بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سی پیک کے مختلف منصوبوں میں کام کے لیے 25 سے 30 ہزار چینی شہری آ رہے ہیں چنانچہ وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت سے چینی کمپنی کو لائسنس جاری کرنے کے لیے کہا تھا۔ محمد زمان نے یہ مضحکہ خیز دعوی بھی کیا کہ شراب بنانے کا یہ چینی کارخانہ صرف بیئر بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چینی کمپنی کا 2018 کا منصوبہ تھا اور اس میں تین ارب روپے کی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے بلوچستان کے علاوہ وفاقی حکومت کو بھی ٹیکسوں کی مد میں بڑی آمدنی آئے گی۔ لیکن ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس فیکٹری میں شراب بنانے کی مشینری لگ چکی ہے اور اس کا بنیادی مقصد شراب بنانا ہے۔

چینی کارکنوں کی تعداد سے متعلق پوچھے جانے والے سوال پر محمد زمان نے بتایا کہ کارخانے کی انتظامیہ چینی افراد پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے حکومت بلوچستان کے ساتھ مل کر یہ طے کیا ہے کہ وہ کارخانے میں تین سے چار سو لوگ بلوچستان سے رکھے گی۔ تاہم اب تک کمپنی میں جو چینی افراد آئے ہیں ان کی تعداد 20 کے لگ بھگ ہے جبکہ اس میں کام کرنے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد 140 ہے۔

بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن محمد زمان نے بتایا کہ فی الحال اس فیکٹری کی پیداوار صرف پاکستان کے لیے ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر یہ کارخانہ صرف چینی شہریوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے تاہم اگر کہیں وفاقی حکومت نے اس کارخانے میں بننے والے مشروب کو بیرون ملک برآمد کرنے کی اجازت دی تو اس کی مصنوعات کو چین یا دیگر ممالک میں برآمد بھی کیا جا سکے گا۔

یاد رہے کہ ایس ای سی پی میں ’ہوئی کوسٹل بروری اینڈ ڈسٹلری لمیٹڈ‘ کی رجسٹریشن گذشتہ برس 30 اپریل کو ہوئی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کمپنیوں کو رجسٹر کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے جنکی مصنوعات کا استعمال پاکستان جیسے مسلمان معاشروں میں ممنوع ہے؟ اس سوال پر ایس ای سی پی کے ترجمان ساجد گوندل کا کہنا تھا کہ یہ مینڈیٹ ان کے ادارے کا نہیں۔ ان کا کہنا تھا جب کسی ادارے کی جانب سے کسی کمپنی کو لائسنس جاری کیا جاتا ہے تو سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا کام اس کو رجسٹر کرنا ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جس طرح پٹواری کا کام اراضی کا ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے خواہ کوئی اس اراضی پر مسجد بنائے یا مندر، اسی طرح ایس ای سی پی کا کام ان کمپنیوں کا ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اس چیز کی نگرانی نہیں کرتا کہ کونسی کمپنی حلال چیز بنا رہی ہے اور کونسی کمپنی حرام۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button