افغانستان سے پاکستان پر ڈرون حملوں کا بھارتی منصوبہ بے نقاب

پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے ڈرون حملوں کے مبینہ منصوبے نے خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کے لیے فراہم کیے جانے والے ڈرونز افغانستان میں تیار کردہ نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم تکنیکی اعتبار سے ان کی صلاحیت محدود اور معیار توقعات سے کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان اس وقت مختلف دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے اور وہاں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی سمیت بعض تنظیموں کو بھارتی معاونت حاصل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون اور جولائی کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مبینہ طور پر نو ڈرون حملے کیے گئے۔ ان ڈرونز کی رینج تقریباً 50 سے 270 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے، جبکہ یہ پانچ کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں اہم دعویٰ یہ ہے کہ بھارتی فراہم کردہ ڈرونز جدید اور انتہائی مؤثر جنگی نظام کے بجائے محدود تکنیکی صلاحیت رکھنے والے آلات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان ڈرونز کی کارکردگی اور آپریشنل صلاحیت ایسی نہیں کہ وہ پاکستان کے مضبوط دفاعی نظام کے سامنے طویل عرصے تک مؤثر ثابت ہو سکیں۔

یہ صورتحال پاکستان کے لیے اگرچہ سکیورٹی کے اعتبار سے ایک چیلنج ہے، تاہم رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس بغیر پائلٹ فضائی نظام سے نمٹنے کے لیے مختلف دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں۔ ان میں ایسے نظام بھی شامل ہیں جو ڈرونز کو برقی یا مواصلاتی مداخلت کے ذریعے ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر انہیں براہِ راست تباہ کرنے کی صلاحیت بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

یہاں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جدید جنگ میں ڈرونز کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ نسبتاً کم لاگت کے حامل یہ آلات سرحد پار نگرانی، ہدف بندی اور محدود حملوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے افغانستان سے پاکستان کی جانب مبینہ ڈرون سرگرمیوں کو محض ایک محدود تکنیکی مسئلہ سمجھنا کافی نہیں ہوگا۔

اگر رپورٹ میں سامنے آنے والے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کو بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی اور معاونت کس حد تک خطے کے امن اور پاکستان کی داخلی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔

پاکستان پہلے ہی افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی کے الزامات اور سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ ایسے میں ڈرون ٹیکنالوجی کی مبینہ منتقلی خطرے کی ایک نئی جہت بن سکتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے روایتی سرحدی رکاوٹوں سے بچتے ہوئے دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

تاہم دوسری جانب یہ دعویٰ بھی سامنے آ رہا ہے کہ بھارتی فراہم کردہ ڈرونز تکنیکی اعتبار سے محدود ہیں اور پاکستان کے پاس ان سے نمٹنے کے لیے مؤثر انسدادِ ڈرون صلاحیت موجود ہے۔ اگر یہ تجزیہ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ڈرونز کی دستیابی کے باوجود ان کا مؤثر استعمال ایک الگ اور زیادہ پیچیدہ چیلنج ہے۔

اصل مقابلہ اب صرف ڈرونز کی تعداد کا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، نگرانی، بروقت شناخت اور دفاعی ردعمل کی رفتار کا ہے۔ جس فریق کے پاس بہتر معلومات، جدید دفاعی نظام اور تیز ردعمل کی صلاحیت ہوگی، وہ ایسے خطرات کو زیادہ مؤثر انداز میں روک سکے گا۔

بھارت کی جانب سے افغانستان کو مبینہ طور پر ڈرونز فراہم کیے جانے کے دعوے بھی اپنی جگہ اہم ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ تاہم اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو خطے میں پراکسی نوعیت کی کارروائیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ایک نیا سکیورٹی منظرنامہ سامنے آ سکتا ہے۔

یوں افغانستان سے پاکستان کے خلاف مبینہ ڈرون حملے ایک ایسے خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارتی فراہم کردہ ڈرونز کی محدود صلاحیت اور پاکستان کے انسدادِ ڈرون دفاعی نظام کے باعث ان کے ذریعے مطلوبہ فوجی یا دہشتگردانہ مقاصد حاصل کرنا آسان نہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں تک جدید ٹیکنالوجی کی رسائی کو کس طرح روکا جائے گا، سرحد پار حملوں کا سدباب کیسے ہوگا، اور خطے میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کیا اقدامات کرتے ہیں۔

Back to top button