پیپلز پارٹی نون لیگ کشیدگی میں صدر زرداری اتنے خاموش کیوں؟

ملکی سیاست میں ایک بار پھر اتحادی حکومت کے مستقبل، باہمی اعتماد اور سیاسی مفاہمت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج سے شروع ہونے والی کشیدگی اب قومی اسمبلی تک پہنچ گئی ہے، جہاں پیپلزپارٹی نے حکومت کے ساتھ پارلیمانی تعاون معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جس آصف علی زرداری کو پاکستانی سیاست میں مفاہمت کا سب سے بڑا کردار سمجھا جاتا ہے، وہ اس بار خاموش کیوں ہیں؟
آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی واضح برتری کو پیپلزپارٹی کی قیادت تسلیم کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی، جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے انتخابی عمل اور نتائج پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ردعمل اپنی سیاسی شکست سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
آزاد کشمیر کے دوسرے مرحلے میں بھی مسلم لیگ ن کی واضح کامیابی کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا پیپلزپارٹی واقعی انتخابی نتائج کو متنازع بنا کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کر سکتی ہے یا یہ حکمت عملی بالآخر خود اس کے لیے مشکلات پیدا کرے گی؟
اس تناؤ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی محض دو الگ سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے موجودہ سیاسی بندوبست کی بنیادی اتحادی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اختلاف اگر سیاسی بیانات اور شکووں تک محدود رہتا ہے تو اسے معمول کی اتحادی سیاست قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اگر یہ اختلاف پارلیمانی تعاون اور قانون سازی کو متاثر کرنے لگے تو معاملہ حکومت کی کارکردگی اور استحکام تک پہنچ جاتا ہے۔اور اب یہی مرحلہ سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے۔پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں حکومت کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس کے ارکان حکومتی بنچوں پر ہی بیٹھیں گے، تاہم پیپلزپارٹی کے 74 ارکان پر مشتمل پارلیمانی گروپ آئندہ فیصلے تک پارلیمانی امور، قانون سازی، کورم اور متعلقہ کارروائیوں میں حکومت کے معاون کا کردار ادا نہیں کرے گا۔
یہ فیصلہ بظاہر حکومت سے مکمل علیحدگی نہیں بلکہ دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے۔ پیپلزپارٹی نے حکومتی بنچ چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا، مگر ساتھ ہی یہ پیغام ضرور دے دیا ہے کہ اتحادی ہونے کا مطلب ہر معاملے پر خاموش حمایت نہیں۔
یہاں صدر آصف علی زرداری کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ماضی میں جب بھی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات خطرناک حد تک بڑھے، زرداری نے مفاہمت کے ذریعے معاملات کو سنبھالنے میں کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی متعدد مواقع پر اتحادی اختلافات کو سیاسی حکمت عملی اور مذاکرات کے ذریعے قابو کیا۔لیکن اس بار صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
مفاہمت کے بادشاہ سمجھے جانے والے آصف زرداری کی خاموشی سیاسی حلقوں کے لیے خود ایک سوال بن گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض معاملات، جن میں ججوں کی تقرریوں کا معاملہ بھی شامل ہے، پر صدر زرداری کو تحفظات ہیں، تاہم انہوں نے ان اختلافات کا کھل کر اظہار کرنے سے گریز کیا ہے۔
اگر واقعی صدر مملکت بھی بعض معاملات پر تحفظات رکھتے ہیں تو پھر پیپلزپارٹی کی موجودہ حکمت عملی کو محض آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج تک محدود رکھنا شاید درست نہیں ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن پر دباؤ بڑھا کر اپنے سیاسی مطالبات منوانا چاہتی ہے؟ یا پھر دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات کسی بڑے سیاسی منصوبے کا حصہ ہیں؟ اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں، جن میں نئے صوبوں کے معاملے سے لے کر وفاقی سیاست میں طاقت کے نئے توازن تک مختلف امکانات زیرِ بحث ہیں۔تاہم فی الحال کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
ایک حقیقت دونوں جماعتوں کے سامنے واضح ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کی سیاسی ضرورت بھی ہیں اور ایک دوسرے کی کمزوری بھی۔ موجودہ بندوبست میں اگر ایک جماعت حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی حد تک جائے گی تو اس کے اثرات دوسری جماعت سے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
اسی لیے موجودہ صورتحال کو "ایک کشتی کے سوار” ہونے کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے ناراض ہو سکتی ہیں، ایک دوسرے پر دباؤ ڈال سکتی ہیں، پارلیمانی تعاون روک سکتی ہیں اور سیاسی بیانات میں سختی بھی لا سکتی ہیں، لیکن اگر کشتی ہی ڈوبنے لگے تو اس میں سوار کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔اب گیند مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں کے کورٹ میں ہے۔
مسلم لیگ ن کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کے تحفظات کو نظرانداز کیے بغیر حکومتی معاملات کو آگے بڑھائے، جبکہ پیپلزپارٹی کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اس حد تک نہ جائے جہاں اتحادی بندوبست ہی خطرے میں پڑ جائے۔اور اس سارے منظرنامے میں آصف زرداری کی خاموشی سب سے زیادہ معنی خیز ہے۔
اگر مفاہمت کا یہ تجربہ کار کردار ایک بار پھر میدان میں اترتا ہے تو ممکن ہے موجودہ کشیدگی مذاکرات کی میز پر ختم ہو جائے۔ لیکن اگر خاموشی برقرار رہی اور پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں تعاون معطل رکھنے کا فیصلہ طویل کیا تو پھر یہ محض ایک عارضی اختلاف نہیں رہے گا بلکہ وفاقی حکومت کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔
آزاد کشمیر سے شروع ہونے والا سیاسی تنازع اب قومی اسمبلی تک پہنچ چکا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں اختلاف کیوں پیدا ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں جماعتیں اپنے اختلافات کے باوجود ایک ہی سیاسی کشتی کو ڈوبنے سے بچا پائیں گی؟
