کن پاکستانیوں کو مہنگی ای سم مفت میں ملے گی؟

پاکستان میں موبائل صارفین کے لیے ای سم کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی سامنے آگئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں کام کرنے والے تمام موبائل فون آپریٹرز کے ساتھ طویل مشاورت اور پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں ای سم سروسز کے لیے نئی اور یکساں پالیسی کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے، جو آئندہ چند روز میں نافذ العمل ہوگی۔ نئی پالیسی کا مقصد ای سم کے اجرا اور منتقلی کے حوالے سے مختلف موبائل کمپنیوں کے الگ الگ طریقہ کار اور چارجز کو یکساں بنانا اور صارفین کے لیے اس جدید سہولت کو زیادہ آسان اور سستا بنانا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت ای سم جاری کرنے کی ابتدائی فیس زیادہ سے زیادہ 1500 روپے مقرر کردی گئی ہے، یعنی کوئی بھی موبائل آپریٹر اس سے زیادہ رقم وصول نہیں کرسکے گا۔ اس کے علاوہ صارف کو اپنی ای سم ایک مطابقت رکھنے والے سمارٹ فون سے دوسرے سمارٹ فون میں منتقل کرنے کے لیے 10 مرتبہ تک بالکل مفت سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس فیصلے سے ان صارفین کو خاص فائدہ ہوگا جو اپنا موبائل فون بار بار تبدیل کرتے ہیں اور ہر مرتبہ ای سم کے نئے اجرا یا منتقلی کے لیے اضافی رقم ادا کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔

ای سم دراصل روایتی پلاسٹک سم کارڈ کا ڈیجیٹل متبادل ہے۔ یہ کوئی الگ سے فون میں ڈالنے والی چِپ نہیں بلکہ فون کی مدر بورڈ میں تیاری کے وقت ہی نصب کی جانے والی ٹیکنالوجی ہے۔ جب صارف کسی موبائل کمپنی کی ای سم سروس حاصل کرتا ہے تو اسے عام طور پر کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ کیو آر کوڈ اسکین کرنا ہوتا ہے یا ڈیجیٹل پروفائل ڈاؤن لوڈ کرنا ہوتا ہے، جس کے بعد موبائل فون متعلقہ نیٹ ورک سے منسلک ہوجاتا ہے۔ اس طریقے سے صارف کو فزیکل سم کارڈ حاصل کرنے، اسے فون میں ڈالنے یا فون تبدیل کرنے پر سم کارڈ منتقل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

پاکستان میں یکساں فریم ورک نہ ہونے کے باعث ماضی میں مختلف موبائل کمپنیوں کی جانب سے ای سم کے اجرا اور اسے دوسرے فون میں منتقل کرنے پر مختلف چارجز وصول کیے جاتے رہے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ اخراجات دو ہزار سے پانچ ہزار روپے تک پہنچ جاتے تھے۔ صارف کو فون تبدیل کرنے کی صورت میں بعض اوقات نئے کیو آر کوڈ کے حصول کے لیے دوبارہ رقم ادا کرنا پڑتی تھی اور کسٹمر سروس مرکز یا فرنچائز کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ یہی صورتحال بہت سے صارفین کے لیے ای سم اختیار کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ بھی بن رہی تھی۔

نئی پالیسی کے بعد پہلی مرتبہ ای سم کے اجرا کی زیادہ سے زیادہ فیس 1500 روپے مقرر کردی گئی ہے جبکہ ایک ہی ای سم پروفائل کو 10 مختلف مطابقت رکھنے والے سمارٹ فونز میں بغیر اضافی فیس منتقل کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس طرح صارفین کو فون تبدیل کرنے کی صورت میں بار بار اضافی رقم ادا کرنے سے بڑی حد تک نجات مل جائے گی۔

پی ٹی اے نادرا اور موبائل آپریٹرز کے ساتھ مل کر ایک محفوظ ڈیجیٹل فریم ورک بھی تیار کررہا ہے جس کے ذریعے مستقبل میں صارفین کو ای سم منتقل کرنے کے لیے فرنچائز یا کسٹمر کیئر مرکز جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس نظام کے تحت صارف موبائل ایپ یا آن لائن پورٹل کے ذریعے گھر بیٹھے اپنی ای سم ایک مطابقت رکھنے والے فون سے دوسرے فون میں منتقل کرسکے گا۔ تاہم اس عمل میں صارف کی شناخت اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک اور متعدد سطحوں پر شناخت کی تصدیق کا نظام استعمال کیا جائے گا، تاکہ کسی غیر متعلقہ شخص یا ہیکر کے لیے کسی دوسرے صارف کی ای سم غیر قانونی طور پر اپنے فون میں منتقل کرنا ممکن نہ ہو۔

ای سم کی نئی فیس اور منتقلی کے قواعد کا پی ٹی اے کے ڈیوائس رجسٹریشن یا موبائل فون پر عائد کسٹم ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اگر کوئی موبائل فون پہلے سے پی ٹی اے کے نظام میں رجسٹرڈ نہیں ہے تو صرف ای سم حاصل کرنے سے وہ فون مستقل طور پر پاکستانی موبائل نیٹ ورک پر فعال نہیں ہوجائے گا۔ ایسے فون کے لیے ڈیوائس رجسٹریشن کے متعلقہ قواعد بدستور لاگو ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں نان پی ٹی اے فون پر ای سم بھی اسی مدت تک کام کرے گی جس مدت تک ایسے فون پر فزیکل سم استعمال کی جاسکتی ہے، جب تک کہ فون متعلقہ قواعد کے مطابق رجسٹرڈ نہ ہوجائے۔

پاکستان میں اس وقت 19 کروڑ سے زیادہ فعال موبائل کنیکشنز موجود ہیں، جبکہ سمارٹ فون استعمال کرنے والے صارفین کی شرح تقریباً 55 سے 60 فیصد بتائی جاتی ہے۔ اس حساب سے ملک میں تقریباً 10 سے 11 کروڑ افراد سمارٹ فون استعمال کررہے ہیں، تاہم ای سم کی سہولت رکھنے والے فونز کی تعداد اس وقت مجموعی سمارٹ فونز کے مقابلے میں محدود ہے۔ اندازوں کے مطابق فی الحال تقریباً 8 سے 12 فیصد سمارٹ فونز ای سم کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں ای سم کی سہولت زیادہ تر جدید فلیگ شپ اور مڈ رینج سمارٹ فونز میں دستیاب ہے۔ ایپل کے آئی فون ایکس ایس اور اس کے بعد کے متعدد ماڈلز، سام سنگ کی ایس سیریز اور بعض دیگر اعلیٰ ماڈلز، گوگل پکسل کے مختلف فونز جبکہ شیاؤمی اور موٹرولا کے مخصوص جدید ماڈلز میں ای سم کی سہولت موجود ہے۔ تاہم کسی مخصوص موبائل فون میں ای سم کی دستیابی اس کے ماڈل، خطے کے ورژن اور متعلقہ موبائل آپریٹر کی مطابقت پر بھی منحصر ہوسکتی ہے، اس لیے صارف کو اپنے فون کے عین ماڈل کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔

پاکستانی موبائل مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ اب بھی بجٹ اور انٹری لیول فونز پر مشتمل ہے، جن میں اکثر ای سم کے لیے مطلوبہ ہارڈویئر موجود نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ فی الحال ای سم استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد مجموعی سمارٹ فون صارفین کے مقابلے میں محدود ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق اگر موبائل فون بنانے والی کمپنیاں مستقبل میں کم قیمت فونز میں بھی ای سم کی ٹیکنالوجی فراہم کرنا شروع کردیں تو پی ٹی اے کی نئی پالیسی اور فیسوں کی حد بندی کے باعث پاکستان میں ای سم کا استعمال تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔

دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں ای سم پہلے ہی موبائل رابطے کا ایک عام ذریعہ بن چکی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کی کئی مارکیٹوں میں موبائل کمپنیاں صارفین کو ای سم کے اجرا اور منتقلی کی ڈیجیٹل سہولت فراہم کررہی ہیں۔ بعض جدید موبائل فونز، خصوصاً امریکہ میں فروخت ہونے والے بعض نئے آئی فون ماڈلز میں فزیکل سم سلاٹ بھی ختم کردیا گیا ہے اور صرف ای سم پر انحصار کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی ای سم ٹیکنالوجی تیزی سے پھیل رہی ہے اور بڑی ٹیلی کام کمپنیاں صارفین کو اپنی ایپس کے ذریعے تیز رفتار منتقلی کی سہولت فراہم کررہی ہیں۔

پاکستان کی نئی ای سم پالیسی کو بھی اسی عالمی تکنیکی تبدیلی سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ 1500 روپے کی زیادہ سے زیادہ فیس اور 10 مرتبہ مفت منتقلی کی سہولت صارفین کے لیے نمایاں بہتری ہے، تاہم اس نظام کی کامیابی کا اصل انحصار اس بات پر ہوگا کہ موبائل آپریٹرز اسے کس حد تک آسان، تیز، محفوظ اور کم خرچ بناتے ہیں۔

عام صارف کے لیے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ موبائل فون تبدیل کرنے کی صورت میں اسے ہر مرتبہ نئی ای سم کے لیے بھاری رقم ادا کرنے یا فرنچائز کے چکر لگانے کی ضرورت کم ہوگی۔ خاص طور پر وہ صارفین جو جدید فون استعمال کرتے ہیں یا بار بار اپنا فون تبدیل کرتے ہیں، ان کے لیے 10 مرتبہ مفت منتقلی کی سہولت ایک اہم مالی اور عملی آسانی ثابت ہوسکتی ہے۔

یوں پاکستان میں ای سم کی نئی پالیسی موبائل شعبے میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ اگر پی ٹی اے، نادرا اور موبائل آپریٹرز کے درمیان تیار ہونے والا محفوظ ڈیجیٹل نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوجاتا ہے تو مستقبل میں صارفین گھر بیٹھے اپنی ای سم منتقل کرسکیں گے اور اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں موجود کئی عملی رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی۔ تاہم صارفین کے لیے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ای سم صرف ان فونز میں کام کرے گی جن میں اس ٹیکنالوجی کے لیے مطلوبہ ہارڈویئر موجود ہو، جبکہ نان پی ٹی اے فونز کے لیے ڈیوائس رجسٹریشن کے قوانین بدستور نافذ رہیں گے۔

Back to top button